ڈالر ملکی تاریخ کی بلندترین سطح 164 روپے تک پہنچ گیا

اپ ڈیٹ 26 جون 2019

ای میل

ڈالر کی طلب میں اضافے سے روپے کی قدر میں مزید فرق پڑسکتا ہے— فوٹو: ڈان نیوز
ڈالر کی طلب میں اضافے سے روپے کی قدر میں مزید فرق پڑسکتا ہے— فوٹو: ڈان نیوز

کراچی: انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 164 روپے تک پہنچ گئی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 7 روپے 20 پیسے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ڈالر کی قیمت 157 روپے 20 پیسے سے بڑھ کر 164 روپے تک پہنچ گئی۔

مزیدپڑھیں: انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے 70 پیسے کمی

دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 6 روپے اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 163 روپے ہوگئی

اسی طرح رواں ہفتے کے دوران سونے کی قیمت میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا، آج 12 گرام سونے کی قیمت 80 ہزار 500 روپے ہوگئی۔

بتایا گیا کہ دن کے آغاز پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کے باعث اس کی قدر میں اضافہ ہوا۔

کرنسی ڈیلرز نے ڈالر کی قدر میں اچانک اضافے پر بتایا کہ طلب میں غیرمعمولی اضافے کے باعث ڈالر کی قیمت بڑھی۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے وسط میں بھی انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 157 روپے تک پہنچ گئی تھی۔

کرنسی ڈیلرز نے ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ مالی سال کے اختتام کو قرار دے دیا تھا۔

ان کے مطابق مالی سال کے اختتام کی تاریخ 30 جون قریب پہنچ رہی اور ساتھ ہی ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنا تمام منافع ملک سے باہر بھیج رہی ہیں۔

مزیدپڑھیں: روپے کی قدر میں کمی مارکیٹ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، اسٹیٹ بینک

خیال رہے کہ عید الفطر کی چھٹیوں سے قبل انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا رجحان دیکھا گیا تھا۔

انٹر بینک میں امریکی ڈالر 75 پیسے مہنگا ہو کر 148.90 روپے کا ہوگیا تھا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 پیسے مہنگا ہوکر 148.80 روپے کا ہوگیا تھا۔

کرنسی ڈیلرز نے امید ظاہر کی تھی کہ عید کی تعطیلات کے بعد انٹر بینک مارکیٹ میں بھی ڈالر کی طلب کم ہوگی اور وہ کمرشل امپورٹرز جو قیمت میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں وہ بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے جس سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی طلب کم ہوجائے گی اور اس کے اثرات اس کی قیمت پر بھی پڑیں گے۔