وزیر اعظم، اشرف غنی کا پاک۔افغان دوستی اور تعاون کے نئے باب کے آغاز پر اتفاق

اپ ڈیٹ 27 جون 2019

ای میل

دونوں رہنماﺅں نے پاک۔افغان روابط کے پیش بین نظریے کی تشکیل کی اہمیت پر اتفاق کیا — فوٹو: پی آئی ڈی
دونوں رہنماﺅں نے پاک۔افغان روابط کے پیش بین نظریے کی تشکیل کی اہمیت پر اتفاق کیا — فوٹو: پی آئی ڈی
افغان صدر کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا—فوٹو: حکومت پاکستان
افغان صدر کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا—فوٹو: حکومت پاکستان

وزیر اعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے نئے باب کے آغاز پر اتفاق کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی نے دونوں ممالک اور ان کے عوام کے مفاد اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے مقصد کے فروغ کے لیے باہمی اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی پاک ۔ افغان دوستی اور تعاون کے نئے باب کے آغاز پر اتفاق کیا ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماﺅں نے وزیر اعظم ہاﺅس میں ون آن ون ملاقات کی اور بعد ازاں وفود کی سطح پر مذاکرات کیے جہاں فریقین میں دوطرفہ تعلقات کے تمام تر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

— فوٹو: پی آئی ڈی
— فوٹو: پی آئی ڈی

اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان 'پرامن ہمسائیگی' کے اپنے نظریے کے تحت پاک۔افغان تعلقات میں معیاری تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہے۔

دونوں رہنماﺅں نے پاک۔افغان روابط کے پیش بین نظریے کی تشکیل کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے مشترکہ ذمہ داری کے تحت افغان امن عمل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغان قیادت اور افغان عوام کی حمایت کا حامل امن عمل افغانستان میں ایک دہائی پرانے تنازع کے خاتمے کا واحد موزوں حل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس ضمن میں پاکستان نے ہمیشہ نتیجہ خیز بین الافغان مکالمہ کی حمایت کی ہے'۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور اس نازک موڑ پر افغان عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، جمہوری اور خوشحال افغانستان سے پختہ وابستگی رکھتا ہے اور افغانستان کے ساتھ سیاسی، تجارتی، اقتصادی اور عوامی سطح پر مضبوط تر تعلقات کا خواہاں ہے۔

دونوں رہنماﺅں نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن سے دونوں ممالک کے لیے شاندار اقتصادی ثمرات حاصل ہوں گے۔

'پاکستان، افغانستان کی تعمیرنو میں اس کے ساتھ کھڑا ہے'

صدر مملکت، افغان ہم منصب کا استقبال کر رہے ہیں — فوٹو: پی آئی ڈی
صدر مملکت، افغان ہم منصب کا استقبال کر رہے ہیں — فوٹو: پی آئی ڈی

افغان صدر پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر پہنچے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے افغان صدر اشرف غنی کا ایوان صدر پہنچنے پر پرتپاک استقبال اور خیر مقدم کیا، جبکہ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے افغان صدر کو پھول پیش کیے۔

وزرا، مشیروں، سینئر حکام اور کاروباری برادری سمیت اعلیٰ سطح کے وفود کے ہمراہ دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے دوران پاک ۔ افغان تعلقات کے تمام پہلو زیر غور آئے، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آگے بڑھنے اور امن و سلامتی اور خوشحالی کے لیے تعلقات کا قیام دونوں ممالک کے بہترین مفاد میں ہے۔

ڈاکتڑ عارف علوی اور اشرف غنی کے درمیان وفود کے سطح پر مذاکرات ہوئے — فوٹو: پی آئی ڈی
ڈاکتڑ عارف علوی اور اشرف غنی کے درمیان وفود کے سطح پر مذاکرات ہوئے — فوٹو: پی آئی ڈی

ڈاکٹر عارف علوی نے اس موقع پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان قریبی تعلقات کے فروغ کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے ساتھ سیاسی، تجارتی، معاشی، تعلیمی اور عوامی رابطوں کی بنیاد پر تعلقات کے فروغ کو اہمیت دیتا ہے۔

صدر مملکت نے افغان تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس سلسلے میں افغان قیادت کی سربراہی میں بین الافغان مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان امن عمل میں اپنے کردار ادا کرنے کے علاوہ تعمیرنو اور ترقیاتی کوششوں میں افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

دونوں رہنماﺅں نے اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام پاکستان اور افغانستان کے لئے بہت مفید ہے۔

افغان صدر کی وزیر خارجہ سے ملاقات

قبل ازیں افغان صدر سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ملاقات کی جہاں انہوں نے افغان امن عمل میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے خلوص، نیک نیتی اور کھلے دل کے ساتھ مصالحتی کردار ادا کرتا رہے گا۔

مزید پڑھیں: افغان صدر اشرف غنی 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ نتیجہ خیز مذاکرات پر زور دیا ہے اور اسے یقین ہے کہ یہ افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے واحد راستہ ہے کیونکہ افغان عوام نے ملک میں طویل عرصے سے جاری عدم استحکام کے باعث مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے وفد کے ہمراہ افغان قیادت سے ملاقات کی—فوٹو: حکومت پاکستان
وزیر خارجہ نے وفد کے ہمراہ افغان قیادت سے ملاقات کی—فوٹو: حکومت پاکستان

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان صدر کے دورے سے دونوں ملک قریب آئیں گے اور دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے۔

دوران گفتگو فریقین نے دونوں ممالک کے عوام کی بہتری اور فلاح بہبود کے لیے امن اور بھائی چارے کی حکمت عملی پر عملدرآمد پر اتفاق کیا گیا۔

ساتھ ہی رہنماؤں نے دوطرفہ معیشت تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے اور مواصلات توانائی، ثقافت اور عوامی رابطوں کے لیے تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔

افغان صدر کا استقبال

واضح رہے کہ عمران خان کی دعوت پر افغان صدر 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے، جہاں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ان کا استقبال کیا۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور دیگر حکام نے افغان صدر کا استقبال کیا—اسکرین شاٹ
مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور دیگر حکام نے افغان صدر کا استقبال کیا—اسکرین شاٹ

افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ وزرا، مشیران، سینئر حکام اور کاروباری افراد سمیت ایک اعلیٰ سطح کا وفد موجود ہے۔

ایئرپورٹ آمد کے بعد افغان صدر کو وزیر اعظم ہاؤس لایا گیا، جہاں ان کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے ان سے حکومتی اراکین کا تعارف کروایا۔

اشرف غنی اس دورے کے دوران صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات بھی کریں گے۔

اس کے بعد اشرف غنی لاہور بھی جائیں گے جہاں وہ بزنس فورم میں شرکت کریں گے جس میں دونوں ممالک سے کاروباری نمائندگان شریک ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 'پاک-افغان تعلقات پر کسی کو عدم اعتماد پیدا کرنے نہیں دیں گے'

یہ افغان صدر کا پاکستان کا تیسرا دورہ ہے جو حال ہی میں امن و استحکام کے لیے افغانستان ۔ پاکستان ایکشن پلان کے پہلے جائزہ اجلاس کے بعد کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا جس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس رابطے میں پاکستان اور افغانستان نے اپنے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھا کر علاقائی روابط کو بڑھانے، سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے حقیقی اقتصادی قوت استعمال کرنے، غربت کے خاتمے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔