فلسطین پالیسی میں تبدیلی مسئلہ کشمیر کو متاثر کرسکتی ہے، این اے پینل نے خبردار کردیا

27 جون 2019

ای میل

فلسطین صدی کا سودا اور 2 ریاستی حل کے موضوع پر گول میز کانفرنس ہوئی—فائل فوٹو: اے ایف پی
فلسطین صدی کا سودا اور 2 ریاستی حل کے موضوع پر گول میز کانفرنس ہوئی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: امور خارجہ پر قومی اسمبلی کے پینل کے سابق اور موجودہ سربراہان نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی فلسطین پالیسی میں کوئی تبدیلی بھارت کے زیر تسلط کشمیر پر اس کی پوزیشن کو کمزور کرسکتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) میں ’فلسطین: صدی کا سودا اور 2 ریاستی حل‘ کے موضوع پر گول میز کانفرنس ہوئی، جہاں گزشتہ قومی اسمبلی کے پینل کی سربراہی کرنے والے کمیٹی چیئرمین احسان اللہ تیوانہ اور اویس لغاری سمیت بڑی تعداد میں سفارتکار، سیاست دان اور تھنک ٹینک کے نمائندوں نے اظہار خیال کیا۔

یہ تقریب مناما بحرین میں اس بین الاقوامی کانفرنس کے پس منظر میں منعقد ہوئی، جہاں امریکا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدی کی ڈیل کے اقتصادی جزو کو سامنے لایا گیا تھا اور یہ طویل عرصے سے چلنے والے فلسطین کے تنازع کے حل کے لیے تجویز تھی۔

مزید پڑھیں: فلسطینی آخر جائیں تو جائیں کہاں؟

وہ منصوبہ جس پر ابھی تک مکمل طور پر عمل نہیں ہوا یہ مبینہ طور پر حتمی سرحدوں، یروشلم کی حیثیت اور فلسطین پناہ گزینوں کی قسمت کے تنازع کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کے لیے ہے۔

اگرچہ اس تجویز کو فلسطینیوں کی جانب سے مسترد کردیا گیا ہے لیکن کچھ طاقت ور عرب ریاستیں جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کی حمایت کرتے ہیں جبکہ پاکستان کو بھی جلد اس معاملے پر اپنی پوزیشن لینے کی ضرورت ہوگی۔

اس سیشن کی سربراہی کرنے والے احسان اللہ تیوانہ کا کہنا تھا کہ فلسطین پر پاکستان کا موقف واضح ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے۔

ان کا کہنا تھا کشمیر اور فلسطین کے تنازع کے درمیان مماثلت کی وجہ سے حکومت کے پاس اس کی ریاستی پالیسی سے انحراف کیلئے زیادہ جگہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی بچوں پر اسرائیل کے مہلک ہتھیاروں کے تجربات کا انکشاف

سیشن سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اویس لغاری نے کہا کہ ’ عرب ممالک میں قابل قبول تبدیلی کے باوجود پاکستان کو اپنے مستقل موقف کو برقرار رکھنا چاہیے اور قابض ریاست کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے کے اثرات سے واقف ہونا چاہیے اور پسے ہوئے فلسطینی عوام کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کو نظرانداز کرنا چاہیے، اس سے پاکستان کے کشمیر پر موقف پر غیرمعمولی اثرات پڑیں گے‘۔

اس موقع پر سیشن سے بذریعہ ویڈیو کال بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکی پالیسی میں تبدیلی کو دیکھ رہے ہیں، پاکستان اپنی پوزیشن میں تبدیلیوں سے اتفاق نہیں کرتا اور ہم ان تبدیلیوں کو مسترد کرنے میں او آئی سی کا حصہ رہیں گے جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادون کی روشنی میں فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔