کیا یہ 6 عادات آپ میں بھی ہیں؟ اگر ہاں تو آپ بہت ذہین ہیں

ای میل

فوٹو/ شٹراسٹاک
فوٹو/ شٹراسٹاک

ایسا نظر آتا ہے کہ جدید سائنس ذہانت کے حوالے سے مخصوص اور روایتی رویوں کی نفی کرتے ہوئے ایسی عادات کے حامل افراد کو ذہین قرار دیتی ہے جن کا تصور کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ویسے اس بات سے اختلاف نہیں کہ ذہین افراد اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہوتے ہیں مگر اتنا فرق بھی ہوتا ہے کیا؟

تو جانیں کہ جدید سائنسی رپورٹس میں کیسے رویوں کے حامل افراد کو ذہانت کا حامل قرار دیا گیا ہے جو اکثر افراد کو مضحکہ خیز یا ناقابل برداشت لگتے ہیں۔

لوگوں کے چبانے کی آواز سے جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے والے

دنیا کی 20 فیصد آبادی ایک نفسیاتی عارضے misophonia یا مخصوص آوازوں کے معاملے حساسیت کا شکار ہے۔ امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس طرح کے افراد زیادہ تخلیقی ذہن رکھنے والے ہوتے ہیں۔ تو اگر آپ بھی اپنے ارگرد لوگوں کے کھانا چبانے کی آواز سے پریشان ہوجاتے ہیں تو ہوسکتا کہ آپ ایک ذہین ترین فرد ہوں۔

غیرمنظم یا صفائی پسند نہ ہونا

امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران دو گروپس کو لیا گیا، ایک گروپ کو صاف ستھرے ماحول جبکہ دوسرے کو بکھیرے ہوئے سامان کے ساتھ رکھا گیا۔ پھر ان دونوں گروپس کو ایک موضوع پر آئیڈیاز دینے کے لیے کہا گیا تو نتائج سے معلوم ہوا کہ بکھیرے ہوئے سامان والی جگہ پر رہنے والے گروپ کے خیالات زیادہ دلچسپ اور تخلیقی تھے۔ محققین کے مطابق بے ترتیبی لوگوں کو روایات سے دور رکھتی ہے اور ان کے لیے نت نئے خیالات کا اظہار کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

رات گئے تک جاگنا

میڈرڈ یونیورسٹی کی ایک ہزار نوجوانوں پر کی جانے والی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں آئی کیو لیول میں زیادہ آگے ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کافی زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ تو کیا آپ بھی رات گئے تک جاگنے کے عادی ہیں؟

اپنے آپ سے باتیں کرنا

ایک تحقیق کے مطابق اپنے آپ سے باتیں کرنا فائدہ مند ہوتا ہے اور اس سے کسی کو بحث میں قائل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں ان کا دماغ زیادہ موثر طریقے سے کام کرتا ہے اور سیکھنے اور مقاصد کے حصول میں مدد دیتا ہے۔

کسی بھی چیز سے زیادہ آسانی سے توجہ ہٹ جانا

بیشتر افراد کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے لوگوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو چھین لیا ہے مگر ایک تحقیق میں اس برعکس روشنی ڈالی گئی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ ٹیکنالوجی آپ کا دھیان بٹا سکتی ہے مگر درست ماحول اور درست تیکنیکس کی بدولت یہ چیز آپ کو ذہین ترین بناسکتی ہے۔ تحقیق کے بقول اس سے لوگوں کو ملٹی ٹاسکنگ اور ترجیحات طے کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ اس سے اطلاعات کا بہتر تجزیہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

خاکے بنانا

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ خاکے بنانے سے لوگوں کو توجہ مرکوز کرنے، نئے تصورات ذہن میں لانے اور معلومات اکھٹا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم محققین یہ بتانے سے قاصر رہے کہ خاکے بنانے سے ذہن تیز ہونے کی اصل وجہ کیا ہے۔