اپوزیشن اراکین کی کٹوتی کی تحاریک قومی اسمبلی میں مسترد

ای میل

پیڑولیم ڈویژن کے لیے 25 ارب روپے کے مطالبات زر منظور کرلیے گئے—فوٹو: اے پی پی
پیڑولیم ڈویژن کے لیے 25 ارب روپے کے مطالبات زر منظور کرلیے گئے—فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ 200 سے زائد کٹوتی کی تحاریک مسترد کردی گئیں۔

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے متعدد اداروں، ڈویژن اور وزارتوں کے لیے مطالبات زر کا تخمیہ پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔

مزیدپڑھیں: حکومت کا بجٹ میں 7 کھرب 75 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کا ارادہ

اسی دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے لیے ’سلیکٹڈ وزیراعظم‘ استعمال کرنےپر قومی اسمبلی میں شور شرابہ شروع ہوگیا تاہم اسپیکر قومی اسمبلی نے لفظ ’سلیکٹڈ‘ حذف کرادیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ایوان نے بجٹ میں کٹوتی کی 323 تحاریک مسترد کردی گئی جبکہ پاور ڈویژن کے لیے 227 ارب روپے اور پیڑولیم ڈویژن کے لیے 25 ارب روپے کے مطالبات زر منظور کرلیے گئے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں بغیر کسی رکاوٹ کے 1 کھرب روپے دفاعی بجٹ کے لیے منظور کرلیے گئے جس پر اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی تھی۔

شہباز شریف اپنے اراکین اسمبلی پر اظہار برہمی

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما خورشید شاہ کی شکایت پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان کو اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ شہباز شریف کی صدارت میں اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے دوران خورشید شاہ نے کہا کہ گزشتہ روز بجٹ اجلاس اہم تھا لیکن اپوزیشن جماعتوں کےتقریباً 20 اراکین غیر حاضر رہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'گیس سیکٹر کا فائدہ صوبوں کو اور بوجھ مرکز پر ہے'

انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کے دوران مسلم لیگ ن کے 16 اور پیپلزپارٹی کے 4 ممبران موجود نہیں تھے۔

جس کے بعد شبہاز شریف نے خورشید شاہ کی شکایت پر اپنے غیر حاضر اراکین قومی اسمبلی پر پر سخت برہمی کا اظہارکیا۔

علاوہ ازیں اپوزیشن لیڈر نے اپنی غیرموجودگی پر وضاحت دی کہ ’میں کل اے پی سی میں شرکت کی وجہ سے قومی اسمبلی میں موجود نہیں تھا‘۔

انہوں نے سوال کیا کہ پارلیمنٹ میں موجودگی کے باوجود ووٹنگ کے وقت ارکان کہاں چلے گئے تھے؟۔

مزیدپڑھیں: وفاقی بجٹ: چینی ، خوردنی تیل، سیمنٹ مہنگی

شہباز شریف نے اراکین کو ایوان میں گنتی کے دوران حاضری کو سختی سے یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی بجٹ نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے وفاقی بجٹ کو مسترد کردیا تاہم کٹوتی کی تحاریک میں اپوزیشن اراکین بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا‘۔

قومی اسمبلی کا احوال

پیپلز پارٹی کے رہنما نواب یوسف تالپور نے کہا کہ سندھ کے متعدد اضلاح میں طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بجلی کی ترسیل پر مشتمل ٹرانسمیشن لائن مکمل طورپر کمزور ہوچکی ہیں۔

’ہم نے گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی تھیں‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گیس کی قیمتوں میں اضافے پر تحریک انصاف کی حکومت پر کڑی تنقید کی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ دورہ حکومت میں گیس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں گیس کی قیمتیں بڑھا کر متوسط طبقے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مالی سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش

سابق وزیراعظم نے زور دیا کہ لوگ برداشت نہیں کرتے اس لیے ان پر مزید بوجھ نہ ڈال جائے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہوئی تب ملک میں بجلی وافر مقدار میں موجود تھی جبکہ اصل مسئلہ پاور لاسز کا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت سرکاری اداروں کے دفاتر اسلام آباد منتقل کرنا چاہتی ہے تاہم ایسے انتظامی فیصلے مسائل کا حل نہیں ہیں۔

‘بجلی کے بل کی ادائیگی ممکن نہیں رہی‘

پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے بجلی کی قیمتوں سے متعلق کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے طنزیہ کہا کہ ’وزارت توانائی کو اپنا نام تبدیل کرکے وزارت قیمتوں میں اضافہ رکھ لینا چاہیے‘۔

مزیدپڑھیں: سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ

عبدالقادر پٹیل نے حکومت کے پہلے بجٹ کو آئی ایم ایف بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ سے متوسط طبقے کی زندگی مزید بدتر ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی الیکڑک (کے الیکڑک) نے ایسے بجلی کے میٹر نصب کیے ہیں جو سپلائی سے بھی منسلک نہیں ہیں۔