گرفتار ہونے والے بیمار ہوجاتے ہیں، نیب ہیڈکوارٹر کو ہی ہسپتال نہ بنادیں؟ عدالت

اپ ڈیٹ 27 جون 2019

ای میل

ہم ایسے بھی کمزور نہیں ہیں، آصف علی زرداری کا عدالت میں تبصرہ — ڈان نیوز
ہم ایسے بھی کمزور نہیں ہیں، آصف علی زرداری کا عدالت میں تبصرہ — ڈان نیوز

جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کی صحت خرابی سے متعلق ریمارکس دیے ہیں کہ اس کیس میں گرفتار ہونے والے افراد بیمار پڑ جاتے ہیں کیا قومی احتساب بیورو (نیب) ہیڈکواٹرز کو ہسپتال ہی نہ بنادیں؟

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جج ارشد ملک نے آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر حسین لوائی اور طٰحہٰ رضا کی عدالت میں عدم موجودگی پر ان کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نیب کی حراست میں ہیں، تاہم ان کی عدم موجودگی سے لگ رہا ہے کہ کہیں انہیں مار تو نہیں دیا گیا۔

ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے ان کے اہلخانہ اور وکلا کو ملنے نہیں دیا جاتا۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری کی گرفتاری کیلئے چیئرمین نیب کو درخواست

انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ دونوں ملزموں پر نیب نے ضرور تشدد کیا ہوگا، دونوں ملزم بیمار تھے کچھ پتہ نہیں کہ انہیں کیا کھلا گیا ہو۔

آصف علی زرداری روسٹرم پر آئے تو عدالت میں موجود تین ملزمان کو ہتھکڑیوں میں دیکھ کر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ یہ پڑھے لکھے لڑکے ہیں، انہیں ہتھکڑیاں کیوں لگا رکھی ہیں؟ یہ تو وائٹ کالر کرائم ہے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے مگر نیب تو اچھا سلوک کرے۔

جج ارشد ملک نے نیب حکام سے سوال کیا کہ کیا ان ملزمان کو ہتھکڑی نیب نے لگا رکھی ہے؟ جس پر نیب حکام نے عدالت کو بتایا کہ انہیں جیل سے پولیس لائی ہے، اس ہتھکڑی کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: آصف زرداری نے جعلی اکاؤنٹس کیس منتقلی کا فیصلہ چیلنج کردیا

سماعت کے دوران ملزم اسلم مسعود کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تو جج ارشد ملک نے ان کی موجودگی کے بارے میں استفسار کیا تو انہیں آگاہ کیا گیا کہ وہ اس وقت ہسپتال میں ہیں۔

جج ارشد ملک نے استفسار کیا کہ اس کیس کی ایک اور ملزمہ فریال تالپور کہاں ہیں جس پر نیب حکام نے انہیں بتایا کہ وہ پروڈکشن آرڈر پر ہیں اور اس وقت کراچی میں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہیں۔

جج ارشد ملک نے انور مجید کے عدالت میں موجود ہونے سے متعلق استفسار کیا تو آصف علی زرداری روسٹرم پر تشریف لائے اور کہا کہ یہ ڈکیت نہیں اور نہ ملک دشمن عناصر ہیں۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ انور مجید کا صرف 30 فیصد دل کام کرتا ہے جبکہ 70 فیصد بند ہے، ایسے مریض کو نیب نے پرسوں رات ہسپتال سے اٹھا لائے، انہیں ایئرپورٹ لے کر گئے تو ان کی طبعیت بگڑنے پر انہیں دوبارہ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری کی عبوری ضمانت منظور

سابق صدر نے کہا کہ ہمارے نیب والے اتنے اہل ہیں کہ بعد میں انور مجید کو ہسپتال میں چھوڑ کر پھر ان کے بیٹے عبد الغنی مجید کو اٹھا لائے۔

اس کے ساتھ ساتھ ملزمان نمر مجید، ذوالقرنین مجید اور علی کمال مجید نے بریت کی درخواستیں دائر کر دیں۔

درخواست گزاروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ اس کیس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا ہمیں اس کیس میں بری کیا جائے۔

جج ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ بریت کی درخواست سے متعلق تھواڑا صبر کر لیتے، جس پر ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ہائی کورٹ کا آرڈر بھی درخواست کے ساتھ لگایا ہے جو کہتا ہے کہ ملزمان کا اس کیس سے تعلق نہیں بنتا۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری گرفتار

جج نے درخواستوں پر نیب سے دلائل دینے کا کہا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے جواب جمع کروانے کے لیے وقت مانگ لیا۔

ملزم عبدالغنی مجید نے میڈیکل سہولیات کی درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی کہ انہیں ہسپتال سے اٹھایا گیا، تاہم طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

اس پر جج ارشد ملک نے ریماکس دیے کہ جس کسی کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اس کی طبعیت خراب ہوجاتی ہے کیوں نہ نیب کے ہیڈکوارٹر کو ہی ہسپتال میں تبدیل کر دیا جائے؟

آصف علی زرداری نے کہا کہ 'ایسے بھی ہم کمزور نہیں صاحب، وہ اور لوگ ہوتے ہوں گے جو ڈرتے ہیں، میں نے 13 سال قید تنہائی کاٹی ہے، مولا کا کرم ہے مجھے کچھ نہیں ہوا۔'

جج ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ سب لوگ ایسے نہیں ہوتے، کچھ لوگ شیر سے لڑ جاتے ہیں تو کچھ چھوٹے سے جانور سے بھی ڈرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 5واں ریفرنس دائر کردیا

آصف زرداری نے جواب دیا کہ وزیراعظم تو چھپکلی سے بھی ڈرتے ہیں جس پر جج نے 'نوکمنٹس' کہ کر بات ختم کی اور کیس کی سماوعت 8 جولائی تک ملتوی کردی۔

سماعت کے اختتام پر جب نیب حکام نے آصف علی زرداری کو واپس چلنے کا کہا تو انہون نے جواب دیا کہ ادھر جا کر بھی کیا کرنا ہے، ادھر ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔

تاہم بعد میں اٹھ کر نیب حکام کے ساتھ چلے گئے۔

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 'موجودہ وزیراعظم چھپکلی سے ڈرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'انہیں ایک روز تھانے میں بند کرکے ایک چھپکلی چھوڑ دی جائے تو دیکھیں کہ کیسے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔