امریکی صدر کا ہواوے پر پابندیوں کو نرم کرنے کا عندیہ

30 جون 2019

ای میل

یہ بات وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں بتائی — اے ایف پی فائل فوٹو
یہ بات وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں بتائی — اے ایف پی فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال مئی میں چینی کمپنی ہواوے کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں مگر اب وہ اس حوالے سے نظرثانی کے لیے تیار ہیں۔

یہ دعویٰ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ ہواوے پر عائد کچھ پابندیوں کو اٹھاتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو مصنوعات چینی کمپنی کو فروخت کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

انہوں نے ملاقات کے بعد کہا 'ہم ایسے آلات کی بات کررہے ہیں جو قومی ایمرجنسی جیسے مسائل کا باعث نہیں بنیں گے'۔

خیال رہے کہ مئی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرتے ہوئے ہواوے پر پابندی عائد کی تھی جس کے لیے کہا گیا تھا کہ اس کمپنی کے چینی حکومت سے قریبی روابط امریکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور یہ دیگر ممالک کی جاسوسی کرتی ہے۔

ہواوے نے اس بات کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔

ہواوے پر پابندیوں میں نرمی دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے حوالے سے جنگ بندی کا حصہ ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کی جی 20 اجلاس کی سائیڈلائن میں ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔

یہ واضح نہیں کہ ہواوے پر کس حد تک پابندیاں اٹھائی جاسکتی ہیں تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا 'ہم چین کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں کہ تجارتی معاملات پر معاہدہ کیسے طے پاسکتا ہے اور ہواوے کا مسئلہ ان مذاکرات کے اختتام تک تعطل میں رہے گا'۔

وال اسٹریٹ جرنل کو ذرائع نے بتایا کہ امریکی قومی سیکیورٹی حکام ہواوے پر پابندیوں میں کمی پر غور کررہے ہیں تاکہ ان امریکی آلات کی نشاندہی کرسکیں جو یہ کمپنی وائرلیس نیٹ ورکس پر کنٹرول کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔