ایک سلیکٹڈ بلاگ

07 جولائ 2019

ای میل

ہمیں لکھنے کے لیے موضوع ’سلیکٹ‘ کرنے میں ہمیشہ مشکل پیش آتی ہے۔ خیر موضوع ہی کیا ہر سلیکشن کا یہی مسئلہ ہے۔ سلیکٹ کرنا دردِ سر ہوتا ہے، ایک بار سلیکٹ کرلو تو پھر ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے، کبھی سلیکٹ کرنے والے کی تو کبھی ’سلیکٹڈ‘ کی۔

یہی پریشانی خواتین خانہ کو روز درپیش ہوتی ہے۔ ’کیا پکاؤں‘ کے سوال سے شوہر کا سر پکادیا جاتا ہے اور پھر خود ہی کوئی پکوان سلیکٹ کرلیا جاتا ہے، کبھی کبھی یہ سلیکٹڈ پکوان اتنا بدمزہ پکتا ہے کہ گھر کے ’عوام‘ فریج میں رکھا باسی کھانا مانگ لیتے ہیں۔

یعنی موضوع سلیکٹ کرنے کا معاملہ ہو یا پکوان، لباس کا سلیکشن ہو یا قومی کرکٹ ٹیم کا سلیکٹ، سلیکٹڈ اور سلیکشن کے الفاظ کسی سلیکشن کے بنا اور زبان پر آئے بغیر ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں، مگر ان دنوں چہار سو لفظ ’سلیکٹڈ‘ کا یوں چرچا ہے جیسے ’تبدیلی‘ کی طرح یہ لفظ ہمارے ہاں نیا نیا وارد ہوا ہو۔

پتا نہیں یہ لفظ ان دنوں زبان زدِ عام کیوں ہے؟ آپ کو معلوم ہو تو ہمیں بھی بتائیے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں دنیا سے کوچ کرجانے والے اردو کے نامور شعرا اگر آج ہوتے تو اس مقبول ہوتے لفظ کو کس طرح برتتے؟

اس سوچ میں کچھ شعرا کے بعض شعر خود بخود ذہن میں سلیکٹ ہوگئے، سو ہماری یہ سلیکشن آپ کے لیے پیش ہے:

میرتقی میر کے ہاں یہ لفظ یوں آتا

آئے سلیکٹ کرکے میرے مکاں کے اوپر

کی تم نے مہربانی بے خانماں کے اوپر


آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب سلیکٹڈ ہیں انتہا ہے یہ


اب مجھ سلیکٹ و زار کو کچھ مت کہا کرو

جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات


کیا سلیکٹڈ کی جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے


اس سلیکٹڈ گلی میں لے جاکر

اور بھی خاک میں ملا لایا


ہم سلیکٹوں سے بے ادائی کیا

آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا


ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

اس سلیکٹڈ کے سب اسیر ہوئے


غالب اس لفظ کو اپنے اشعار میں یوں لاتے

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

ایسا سلیکٹ کیا ہو کہ تجھ سا کہیں جسے


آگے آتی تھی سلیکٹڈ پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی


آئے سلیکٹ ہوکے مضامیں خیال میں

غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے


علامہ اقبال کے کلام میں یہ لفظ اس طرح کلام کرتا

ہر شے سلیکٹڈ ہر چیز راہی

کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی


ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے سلیکٹڈ دیدہ ور پیدا


اسی خطا سے عتابِ ملوک ہے مجھ پر

کہ جانتا ہوں مال سلیکٹری کیا ہے


جلالِ بادشاہی ہو کہ جمہوری سلیکشن ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی


جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

یوں ہی سلیکٹ کرتے ہیں تولا نہیں کرتے


نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

سلیکٹڈ ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں


کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے

سلیکٹ صوفی وشاعر کی ناخوش اندیشی


مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے

کہ وہ جو ہوں سلیکٹڈ ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں


سلیکشن سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں


فیض احمد فیض کی شاعری میں یہ لفظ یوں جگہ پاتا

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے

سلیکٹ مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے


دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی سلیکٹ شام ہے پر شام ہی تو ہے


غم جہاں ہو، رخ یار ہو، کہ دست عدو

سلیکٹ جس کو کیا ہم نے عاشقانہ کیا


ہم ایسے سادہ دلوں کی نیازمندی سے

سلیکٹڈوں نے بھی کی ہیں خدائیاں کیا کیا


ہم سے کہتے ہیں چمن والے، غریبان چمن!

تم سلیکٹ اچھا سا کرلو اپنے ویرانے کا نام


جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی

ہوئے سلیکٹ پڑی ہیں برائیاں کیا کیا


جوش ملیح آبادی فرماتے

مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو اے سلیکٹ!

لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا


صرف اتنے کے لیے آنکھیں ہمیں بخشی گئیں

دیکھیے سارے سلیکٹڈ اور بہ عبرت دیکھیے


احمد فراز اس لفظ کو اس طرح برتتے

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

اس سلیکٹڈ کو گزرنا ہے گزر جائے گا


ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں

فراز اب کے سلیکشن بدل کے دیکھتے ہیں


چپ ہی سلیکٹ آگ میں جلتے رہو فراز

دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے


فراز تیرا سلیکشن ہے، ٹھیک ہے، ورنہ

یہ کیا ضرور وہ صورت سبھی کو پیاری لگے


ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا

ہو سلیکٹڈ تو وہی نام بھی تجھ سا رکھے


ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں

اک سلیکٹڈ بھی قافلہ ہے مجھے


سلیکٹ کرنے میں میں بھی شریک ہوں جیسے

مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا


جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

اے جان! سلیکٹڈ یہ تمھارا ہے کہ تم ہو؟


اور صاحب ساغرصدیقی تو یہ کہہ کر غضب ڈھادیتے

گُر سکھادیں گے بادشاہی کے

ہم سلیکٹوں سے دوستی کرلو