سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی 2 روزہ ہڑتال کا حصہ بنیں گے؟

02 جولائ 2019

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کیا آپ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جانا پسند کرتے ہیں اور اس کے بغیر دن گزارنا مشکل لگتا ہے؟ اگر ہاں تو اگر کوئی آپ سے 48 گھنٹے کے لیے ان سے دور رہنے کا مطالبہ کرے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟

درحقیقت انٹرنیٹ کے معروف ترین انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا کے شریک بانی ڈاکٹر لیری سانگیر نے سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ رواں ہفتے 48 گھنٹے کے لیے ان نیٹ ورکس سے دوری اختیار کرلیں تاکہ ان کمپنیوں پر صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے کنٹرول واپس دینے کے لیے دباﺅ ڈالا جاسکے۔

وکی پیڈیا کے شریک بانی نے 4 اور 5 جولائی کو سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے دور رہنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تبدیلی کے لیے لوگوں کا دباﺅ ان کمپنیوں پر بڑھایا جاسکے۔

انہوں نے ایک بلاگ میں لکھا 'ہم اس حوالے سے کافی کچھ کرنے والے ہیں اور ہم سب مل کر ان بڑی کمپنیوں سے اپنے ڈیٹا کے کنٹرول کی واپسی کا مطالبہ کریں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں جتنے لوگ شامل ہوں گے، اس سے اندازہ ہوگا کہ کتنے زیادہ لوگ موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس سے بڑے سوشل نیٹ ورکس میں تبدیلیوں کے عمل کا آغاز ہوگا اور لوگوں کو اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول مل سکے گا۔

جو لوگ اس ہڑتال کا حصہ بنیں گے انہیں ڈیکلریشن آف ڈیجیٹل انڈیپینڈنس پر سائن کا بھی کہا گیا ہے جو کہ وکی پیڈیا کے شریک بانی نے تیار کیا ہے۔

اس دستاویز میں سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آزاد رائے، پرائیویسی اور سیکیورٹی کے حقوق کا احترام کریں اور ڈی سینٹرلائز پالیسی اختیار کریں۔

اس ہڑتال کا چرچا ریڈیٹ، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر ہورہا ہے اور کچھ حلقوں کی جانب سے دلچسپی کا اظہار بھی کیا ہے جبکہ کچھ نے اس پر سوالات کیے ہیں۔

جیسے ایک صارف نے لکھا کہ چاہے ہر ایک اس ہڑتال کا حصہ بن جائے مگر روزانہ کے صارفین کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں آئے گا۔