ٹک ٹوک نے بھارت کی خاتون کو 3 سال سے لاپتہ شوہر سے ملادیا

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2019

ای میل

بھارت میں ٹک ٹوک کے 12 کروڑ سے زائد صارفین ہیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی
بھارت میں ٹک ٹوک کے 12 کروڑ سے زائد صارفین ہیں—فائل/فوٹو:اے ایف پی

بھارت میں ایک خاتون کو موبائل ایپلی کیشن 'ٹک ٹوک' نے 3 سال سے لاپتہ شوہر سے ملادیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ بھارتی شہری 2016 میں لاپتہ ہوگئے تھے جس کے بعد وہ ایک مخنث کے ساتھ رہ رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق خاتون کے ایک رشتہ دار نے ان کے شوہر کو مخنث کے ساتھ ایک ویڈیو میں تھا جس کے بعد وہ پولیس کے پاس پہنچے اور پولیس نے ان کا سراغ لگا لیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے جوڑے کی رہنمائی کی اور اب وہ دوبارہ ایک ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

خاتون کے شوہر سریش کو پولیس نے ان کے آبائی ضلع ویلوپورام سے 200 کلومیٹر دور ریاست تامل ناڈو کے شہر ہوسر سے ڈھونڈ نکالا۔

اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے اس ضلع میں مخنث ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا جو مخنث کے فوٹو کے ذریعے ان کی شناخت میں ہماری مدد کرسکتے تھے’۔

خاتون نے اس سے قبل پولیس کے پاس لاپتہ افراد کے طور پر شکایت درج کرادی تھی، لیکن وہ انہیں ڈھونڈ نکالنے میں ناکام تھے۔

ٹک ٹوک ایک ایسی ایپ ہے جو صارفین کو ویڈیو بنانے اور شیئر کرنے کی سہولت دیتا ہے جو بھارت میں عام ہوچکا ہے۔

بھارت میں اس ایپ کے صارفین کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 12 کروڑ سے زائد ہے، تاہم کئی صارفین کی جانب سے نامناسب چیزیں شیئر کرنے پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔

رواں برس اپریل میں تامل ناڈو میں ایک عدالت نے فحش ویڈیوز جاری کرنے پر ایپ کی سہولت کو موبائل سے ختم کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن اس پابندی کو ایک ہفتے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔