عمر رسیدہ افراد کے لیے اپنی زندگی بہتر بنانے کا آسان نسخہ

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2019

ای میل

ہم خیال افراد کی صحبت سے مزاج خوشگوار اور دماغ کو توانا رکھتی ہے—فاطمہ علی، اے ایف پی
ہم خیال افراد کی صحبت سے مزاج خوشگوار اور دماغ کو توانا رکھتی ہے—فاطمہ علی، اے ایف پی

کسی کو یہ تجویز دینا یا نصیحت کرنا مضحکہ خیز سا محسوس ہوسکتا ہے کہ کس طرح عمر رسیدگی سے نمٹا جائے۔ لیکن عمر رسیدہ افراد تو ایسی کسی بات پر کان دھرنا بھی گوارا نہیں کرتے، وہ یہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ 'عمر رسیدگی' کی اصل عمر کیا ہے۔ بات کافی سادہ سی ہے، انہیں یہ جاننے کی خواہش ہی نہیں ہوتی کہ کب زندگی ان سے روٹھ جائے گی۔

اخبارات میں شائع ہونے والے تعزیتی پیغامات میں اکثر و بیشتر یہ لکھا ہوتا ہے کہ مرحوم نے 'بے وقت' وفات پائی یا پھر یہ کہ مرحوم 'طویل العمری' میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ اب یہ سوچ ستاتی ہے کہ انسانی زندگی میں وہ کون سا وقت ہے جو 'بے وقتہ' ہے اور کب عمر طوالت کی حدوں کو چھوتی ہے۔ اسے ستم ظریفی ہی کہیے کہ زندگی تو آپ کی اپنی ہے لیکن سفرِ حیات کی مدت کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ چاہے آپ خود کو کتنا ہی عقلِ کُل سمجھتے ہوں، آپ موت کے فرشتے کو دھوکہ ہرگز نہیں دے سکے۔ یا آپ کو میری بات پر شک ہے؟

ہاں زیادہ سے زیادہ لوگ یہ دعوی کرسکتے ہیں کہ مدت چاہے جنتی بھی ہو، لیکن زندگی خوشگوار گزری۔ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کا باخوشی سامنا کرتے رہے اور زندگی کو ٹھیک اسی طرح کھل کر جیے جس طرح ہاکی، فٹ بال یا کرکٹ کا کھیل کھیلا جاتا ہے؟

بطور ایک عمر رسیدہ شخص میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق ہم میں سے زیادہ عمر رسیدہ افراد عمومی طور پر عمر کے اس حصے کو زیادہ عام فہم کے ساتھ نہیں سنبھال رہے ہیں۔ چنانچہ مجھے مجبور ہو کر ان کے لیے چند رہنما اصول پیش کرنے پڑے ہیں:

پہلا: قسمت کی چھوٹی چھوٹی مہربانیوں کے لیے جینا سیکھیے۔ چھوٹی چھوٹی مہربانیاں ہر فرد کے لیے مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ یہ پتا لگانا آپ کا کام ہے کہ آپ کو کون سی 'مہربانیاں' عطا کی گئی ہیں، جو خصوصی طور پر آپ کو دستیاب ہوں۔

دوسرا: دنیا کی رفتار کے ساتھ چلنے کی کوشش مت کریں۔ اس طرح آپ منہ کے بل جا گریں گے اور خود کو دیگر کی نظروں میں دیوانہ ثابت کریں گے۔ اپنا کوئی کام یا اپنی کوئی کارکردگی دکھا کر داد وصولی کی خواہش میں مت پڑیں۔ اگر دیگر آپ سے آگے نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے آگے چلنے دیجیے۔

تیسرا: کم بولیے۔ ممکن ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ آپ کی دانائی میں بڑھی ہو لیکن اصل دانائی بچوں اور پوتے پوتیوں میں علم بانٹنے کی اپنے اندر اٹھتی شدید خواہش کو دبانے میں ہی ہے۔ اس کا حسب توقع نتیجہ نہیں نکلتا۔ آپ کے الفاظ کم عمر سماعتوں میں گھلنے کے بجائے زور زور سے ٹکراتے ہیں جس کے باعث آپ کو کھبتی قرار دے دیا جاتا ہے۔

چوتھا: تنہائی سے لطف اندوز ہونا سیکھیے۔ اگر تنہائی کو اپنی خوشی سے قبول کرلیا جائے تو اس سے محظوظ ہوا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی یاد ماضی کے سفر کے لیے تنہائی پہلی شرط ہوتی ہے۔ آپ اس میں رومانوی رنگ بھی ڈال سکتے ہیں۔ اگر ممکن ہوسکے تو اپنی آپ بیتی لکھیے، پھر معیاری وقت گزاری کے لیے اسی کا مطالعہ شروع کردیجیے۔

پانچواں: اپنے ڈاکٹروں سے دوریاں نہ بڑھائیں۔ اگر وہ آپ سے مہنگی فیسیں لیتے ہیں تو یہ کبھی مت بھولیں کہ پیسا ہاتھ کا میل ہوتا ہے۔ بوڑھاپے میں آپ کا پیسا ہوتا ہی ڈاکٹروں پر اڑانے کے لیے ہے! کبھی کبھار کوئی لطیفہ سنا کر ان اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کا موڈ خوشگوار رکھنے کی کوشش کریں (چاہے آپ کا لطیفہ پیسا کمانے کی سوچ میں ڈوبے دماغ کو سمجھ آئے یا نہ آئے۔)

چھٹا: جب بھلے پرانے دنوں کی یاد ستائے تو پرانی یادوں کے سفر میں اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو شریک مت کریں۔ وہ تیز رفتار زندگی کے راستے پر گامزن ہیں۔ انہیں آپ کے ماضی کی یادوں کے بوسیدہ راستے پر سست رفتار سفر پر منتقل ہونے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ساتواں: بھلے ہی آپ کے بچے امریکا، کینیڈا یا آسٹریلیا میں نہ جا بسے ہوں اور وہ آپ کے قریب ہوں تب بھی آپ کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہے۔ اپنے پوتے پوتیوں سے زیادہ قربت اختیار کرنے میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔ اس سے ممکن ہے کہ آپ کے پوتے پوتیاں آپ کے بہت زیادہ قریب ہوجائیں۔ ایسا ہوا تو انہیں بگاڑنے کا سب سے پہلے الزام آپ پر دھر دیا جائے گا۔

آٹھواں: اپنے جذبات اور فرحت بخش لمحات کو اپنے تک ہی محدود رکھیے۔ طلوع سحر ہو یا غروب آفتاب، پورا چاند ہو یا بارش میں بھیگتے درخت، پتوں پر گرتی بارش کی بوندیں ہوں یا پھر کوئی پرانی مدھر دھن، ان سب لمحات کو غیر ضروری طور پر اپنے 'قریبی اور محبوب لوگوں' کے ساتھ بانٹنے کی کوشش مت کریں۔ یہ لمحات ان کے نوجوان دلوں میں وہ احساسات نہیں جگاتے جو یہ آپ کے سیکنڈ ہینڈ بوسیدہ دل میں جگاتے ہیں۔ یہ لمحات ان کے لیے بوریت کا سامان بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ وہ اپنے اپنے موبائیل فونز پر ان سب سے پہلے ہی محظوظ ہورہے ہیں۔

سب سے آخر میں یہ بات کہنا چاہوں گا کہ اپنے اگلے سفر سے مت گھبرائیے۔ اگلے سفر کے لیے پرجوش رہیں، آپ کو پتا نہیں کہ آگے کیسا دلچسپ وقت آپ کا منتظر ہے۔


لکھاری ایک کچے فوٹوگرافر اور گائگ ہیں، انہوں نے استاد ولایت علی خان سے کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کی ہوئی ہے۔


یہ مضمون 7 جولائی 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔