نیب سے سزا یافتہ سابق وزیر کو 2026 تک انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا

08 جولائ 2019

ای میل

سابق صوبائی وزیر کو کرپشن کے الزامات پر 14 سال سزا اور 6 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
سابق صوبائی وزیر کو کرپشن کے الزامات پر 14 سال سزا اور 6 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلوچستان کے سابق وزیر میر فائق جمالی کو 2026 تک انتخابات لڑنے سے روک دیا۔

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فائق جمالی کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران سابق وزیر فائق جمالی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے نیب کیس میں اکتوبر 2013 تک سزا بھگتی ہے، لہٰذا سزا مکمل ہونے کے بعد وہ الیکشن لڑسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر نااہل قرار

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فائق جمالی نے جیل کی سزا پوری کی جبکہ احتساب عدالت نے انہیں 6 کروڑ روپے جرمانہ بھی کیا، نیب قانون میں سزا پوری کرنے کے بعد 10 سال کی نا اہلی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے موکل نے جیل کی سزا پوری کی لیکن جرمانہ نہیں دیا، جس پر وکیل نے کہا کہ میرا موکل 29 نومبر 2016 کو جرمانے کی رقم ادا کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ضلع نصیر آباد سے 4 خواتین امیدوار عام نشستوں پر انتخابی میدان میں

وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ جرمانہ ادا کرنے کی تاریخ سے نااہلی کے 10 سال شروع ہوں گے، لہٰذا 2026 کے بعد فائق جمالی الیکشن لڑ لیں۔

خیال رہے کہ سابق صوبائی وزیر فائق جمالی کو کرپشن کے الزامات پر 14 سال سزا اور 6 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا، جس کے بعد 2013 میں وہ سزا پوری ہونے پر رہا ہوگئے تھے۔

بعد ازاں فائق جمالی کے انتخابات میں حصہ لینے کے خلاف نیب نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔