انٹرپول کے سابق سربراہ کی اہلیہ کا ادارے پر مقدمہ

09 جولائ 2019

ای میل

ان کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ وہ لاپتہ ہوگئے ہیں—اے پی فائل
ان کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ وہ لاپتہ ہوگئے ہیں—اے پی فائل

پیرس: چین میں لاپتہ ہونے والے انٹر پول کے سابق سربراہ کی اہلیہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر کو حراست میں لیے جانے میں ساز باز کرنے پر بین الاقومی پولیس آرگنائزیشن کے خلاف مقدمہ کررہی ہیں۔

سابق سربراہ انٹرپول مینگ ہونگ وے نے گزشتہ برس ستمبر میں چین کا دورہ کیا تھا جس کے بعد ان کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ وہ لاپتہ ہوگئے ہیں۔

مینگ ہونگوے کی اہلیہ گریس مینگ کا کہنا تھاکہ انہوں نے ہیگ میں قائم عالمی عدالت برائے ثالثی میں مقدمہ کیا ہے، جو بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کا دنیا کی قدیم ترین ادارہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انٹرپول کے سابق سربراہ پر رشوت لینے کا الزام، فردِ جرم عائد

فرانسیسی خبررساں ایجنسی ‘اے ایف پی‘ کو ارسال کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انٹرپول میرے خاندان کا تحفظ کرنے اور ہمارے ساتھ تعاون کرنے میں ناکام ہوگئی اور ادارے نے اپنے رکن ملک چین کی بین الاقومی سطح کی غلط حرکت میں ساز باز کی‘۔

مینگ ہونگوے کو رواں برس 20 جون کو چین کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں سابق وزیر برائے پبلک سیکیورٹی کو 21 لاکھ ڈالر رشوت وصول کرنے کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

اس وقت سے اب تک ان کی اہلیہ اور 2 بچوں کو فرانس میں سیاسی پناہ حاصل ہے جسے بیجنگ نے ’فرانس کے قانونی معاملات کا استحصال‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

مزید پڑھیں: چین نے انٹرپول کے صدر کو حراست میں لینے کی تصدیق کردی

گریس مینگ نے مزید کہا کہ ہیگ میں موجود ٹریبونل اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ میرے شوہر کی گمشدگی فرانس اور چین کے متعلقہ حکام کا معاملہ ہے یا انٹرپول نے بذات خود میرے خاندان سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے کہا کہ انٹرپول نے اس بارے میں کچھ بولنے کی صورت میں انہیں دھمکایا۔

دوسری جانب انٹرپول کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی کا آغاز 26 اپریل کو ہوا تھا اور اسے خفیہ رہنا تھا اس کے ساتھ انٹرپول نے الزمات کو قانونی طور پر بے بنیاد قرار دیا۔

عالمی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ ’انٹرپول سختی سے ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ اس نے گریس مینگ جو دھمکایا یا وہ چین کی جانب سے کی گئی کارروائی میں کسی بھی طرح ملوث ہے۔


یہ خبر 9 جولائی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔