ذہین طاہرہ، آپ جیسا ذہین کہاں سے لائیں؟

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2019

ای میل

پاکستان میں ڈرامے کی شروعات ریڈیو پاکستان سے ہوئی، پھر جب پاکستان ٹیلی وژن کی آمد ہوئی تو ٹی وی کو ریڈیو سے ہی فنکاروں کی اکثریت میسر آئی، ان میں سے معدودے چند فنکار ایسے تھے، جنہوں نے دونوں شعبوں میں خود کو نہ صرف عمدہ فنکار ثابت کیا بلکہ ڈرامے کی کلاسیکی روایات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ شہرت اور عزت بھی کمائی۔ انہی میں سے ایک بہترین اداکارہ اور شاندار شخصیت کی مالک ذہین طاہرہ تھیں، جن کی رحلت سے ان کے حلقہ احباب اور ڈرامے کا منظرنامہ سوگوار ہے۔

ذہین طاہرہ اپنے نام کی طرح روشن دماغ اور ذہین شخصیت کی حامل تھیں۔ 1940ء کو لکھنو، ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ والد فوج میں شعبہ طب سے وابستہ اور ڈاکٹر تھے۔ بچپن ہی سے فنونِ لطیفہ سے جذباتی وابستگی تھی، بالخصوص فلموں میں گلوکاری کا شوق تھا اور رقص سے بھی دلچسپی تھی۔

مزید پڑھیے: علی اعجاز: ایک درویش صفت اداکار

گلوکاری کے شوق میں متعدد بار والدہ کے ہاتھوں ان کی پٹائی بھی ہوئی، لیکن گانے سے باز نہ آئیں۔ اسی طرح رقص کا شوق بھی انہیں بے چین کیے رکھتا تھا۔ ان کی ذات میں یہ دونوں رنگ فلم کے شعبے سے آئے۔ انہیں کم عمری میں سینما جاکر فل میں دیکھنے کا موقع ملا، جس نے ان کے اندر دونوں رنگوں کو ابھارا، بلکہ تیسرے رنگ کے طور پر اداکاری بھی ان کے لاشعور میں کہیں موجود تھی، وہ رنگ بعد میں نمودار ہوا، اور طویل عرصے تک اپنے اس پوشیدہ فن سے وہ واقف نہ ہوسکیں۔

50 کی دہائی میں جب ذہن طاہرہ 10ویں جماعت میں پڑھتی تھیں تو ان کی شادی ہوگئی۔ خوش قسمتی سے انہیں قدر دان شوہر ملا، جس نے آزادی دی اور ان کے فن کی حوصلہ افزائی کی، سوائے فلموں میں کام کرنے کے، کیونکہ یہ وہ دور تھا جب فلموں میں شریف گھرانوں کی لڑکیوں کا کام کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔

اس طرح شوہر کی معاونت سے مزید تعلیم حاصل کرتے ہوئے اردو کالج (وفاقی اردو یونیورسٹی) سے گریجویشن کیا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی ان کو ریڈیو پاکستان جانے کا موقع ملا، جہاں پہلی مرتبہ پروگرام بزمِ طلبا میں شریک ہوئیں۔ ریڈیو کے ڈراموں میں بطور اداکارہ کام شروع کیا، پھر ٹیلی وژن آنے کے بعد وہاں اپنا مستند کیرئیر بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹیج ڈراموں میں بھی کام کیا اور تمام ہی شعبوں میں ڈھیروں کامیابیاں سمیٹیں۔

ریڈیو پاکستان سے وابستگی کے بعد 60 کی دہائی میں ٹیلی وژن کے لیے اداکاری شروع کی، جہاں سے ان کی ملک گیر شہرت کا آغاز ہوا۔ انہوں نے تقریباً 700 ڈراموں میں کام کیا اور ہر طرح کے کرداروں میں اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھائی۔ ان کے ماضی کے مشہور ڈراموں میں

  • خدا کی بستی،
  • حجِ اکبر،
  • آخرِ شب،
  • اماوس،
  • گردش،
  • شمع اور
  • عروسہ شامل ہیں۔

جبکہ حالیہ کچھ عرصے میں جن ڈراموں میں اداکاری کی، ان میں

  • منٹو راما،
  • چاندنی راتیں ،
  • ماسی اور ملکہ،
  • مرے قاتل مرے دلدار،
  • مراسم،
  • ببن خالہ کی بیٹیاں اور
  • برفی لڈو شامل ہیں۔

ان تمام ہی ڈراموں میں انہوں نے چھوٹے بڑے ہر طرح کے کرداروں کو بخوبی نبھایا۔ وہ 60 اور 70 کی دہائی میں ٹیلی وژن کی نمایاں اداکاراؤں میں شامل رہیں، جنہوں نے ٹی وی کی اسکرین اور ناظرین کے دلوں پر ایک عرصے تک راج کیا۔

ذہین طاہرہ نے تمام ہی شعبوں میں ڈھیروں کامیابیاں سمیٹیں—اسکرین شاٹ
ذہین طاہرہ نے تمام ہی شعبوں میں ڈھیروں کامیابیاں سمیٹیں—اسکرین شاٹ

انہوں نے چند ایک فلموں میں بھی کام کیا، جن میں ماضی کی معروف فلموں میں ’سڑک‘، ’خواہش‘ جبکہ 2015ء میں ہمایوں سعید اور ماہرہ خان کی فلم ’تم بن‘ شامل ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’شادی کے بعد انہیں فلموں میں کام کرنے کی شدید خواہش تھی، مگر شوہر کی طرف سے اجازت نہیں تھی۔ لیکن جب وہ اُن دنوں دیار غیر میں تھے، تو انہیں یہاں فلم میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی اور انہوں نے شوق کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس فلم میں کام کرنے کی پیشکش قبول کرلی۔ اس فلم کا نام ’دلہن ایک رات کی‘ تھا۔ یہ فلم اپنے وقت کی مشہور فلم ثابت ہوئی، لیکن ہوا یہ کہ عین شوٹنگ کے پہلے دن جب انہوں نے ابھی چند سین ہی عکس بند کروائے تھے تو انہیں شوہر کی طرف سے خط ملا، جس میں لکھا ہوا تھا کہ ’مجھے چھوڑ دو یا فلم چھوڑ دو‘، جس کے بعد انہوں نے فلم کی شوٹنگ ادھوری چھوڑی اور گھر واپس آگئیں۔

ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم تینوں کیرئیر میں بہت سارے فنکاروں کے ساتھ انہوں نے کام کیا، لیکن ٹیلی وژن میں ان کے کیے ہوئے کام کا تناسب زیادہ ہے۔

مزید پڑھیے: ہمارے انور مقصود

ریڈیو پاکستان میں معروف براڈ کاسٹر اور پروڈیوسر ربیعہ اکرم کے ساتھ انہوں نے متعدد ڈراموں میں کام کیا۔ میری جب ان سے خصوصی گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ’ذہین آپا بہت ذمے دار فنکارہ تھیں۔ ان کو جب ڈرامے کا اسکرپٹ دیا جاتا تو وہ اپنا کردار تو یاد کرتی ہی تھیں، لیکن ریہرسل کے دوران دوسروں کے کرداروں کو بھی غور سے سنتی تھیں تاکہ ڈرامے کی کیفیت کو سمجھ سکیں۔ پھر جہاں کہیں ضرورت محسوس کرتیں، تجاویز بھی دیتیں، جس کی وجہ سے ڈرامے میں نکھار پیدا ہوجاتا۔ ان کی اس مثبت عادت سے ہم نے بہت کچھ سیکھا‘۔

ذہین طاہرہ 60 اور 70 کی دہائی میں ٹیلی وژن کی نمایاں اداکاراؤں میں شامل رہیں
ذہین طاہرہ 60 اور 70 کی دہائی میں ٹیلی وژن کی نمایاں اداکاراؤں میں شامل رہیں

اس موقع پر ٹیلی وژن اور فلم سے وابستہ چند سینئر اداکاروں سے بھی گفتگو کی۔ معروف اداکار اور ماہرِ تعلیم راحت کاظمی کہتے ہیں کہ ’ایک اتفاق ہے کہ میں نے کبھی ان کے ساتھ کام نہیں کیا، لیکن ان سے اور ان کے کام سے واقف ہوں۔ وہ ایک متاثر کن اداکارہ تھیں، جنہیں اپنا کام بخوبی آتا تھا۔‘

معروف اداکار طلعت حسین کے خیال میں ’وہ ایک عمدہ شخصیت کی مالک اور بردبار خاتون و فنکارہ تھیں۔ انہوں نے خاص طور پر ٹیلی وژن میں جتنا کام بھی کیا، وہ لائقِ ستائش ہے‘۔

حسینہ معین نے ان کے مزاج اور کام دونوں کو بہت سراہا، ان کے مطابق ’آج کے دور میں ان جیسی فنکارہ کا موجود ہونا غنیمت تھا۔ ان کے جانے سے نہ صرف فنی نقصان ہوا، بلکہ ہم سے ایک عمدہ شخصیت بھی بچھڑ گئی‘۔

اکبر سبحانی کے خیال میں ’وہ ایک ایسی اداکارہ تھیں، جنہیں اپنے کردار اوڑھ لینے پر ملکہ حاصل تھا، اسی خوبی کی وجہ سے ہمیشہ اپنے ہر کردار میں انہوں نے متاثر کیا‘۔

بہروز سبزواری کے مطابق ’وہ کئی ڈراموں میں میری ماں بنیں، لیکن سچی بات یہ ہے، میں ان کو حقیقی زندگی میں بھی ماں کا ہی درجہ دیتا تھا‘۔

شبیر جان کا کہنا ہے ’وہ ایک اچھی فنکارہ اور بہادر خاتون تھیں، خاص طور پر زندگی میں درپیش مصائب کا مقابلہ انہوں نے جس بہادری سے کیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے‘۔

ذہین طاہرہ کے 2 بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، جبکہ ڈرامے کی صنعت سے وابستہ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد بھی انہیں اپنی ماں کا درجہ دیتی ہے، یہی وہ عزت ہے، جس کو انہوں نے اپنی مادرانہ شفقت کی بدولت کمایا۔ اداکاری کے شعبے میں ایسے کردار نبھائے، جن کو امر کردیا۔

انہیں 2013ء میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے تمغہءِ امتیاز سے نوازا گیا، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی وژن ایوارڈز سمیت بہت سارے نجی ٹیلی وژن کے ایوارڈز بھی ان کے حصے میں آئے۔ ان کا شمار چند ایسے فنکاروں میں ہوتا ہے، جن کی زندگی میں ہی ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس کراچی آرٹس کونسل کی طرف سے ہونے والی تقریب، جس میں ان کو خراج تحسین پیش کیا گیا، قابلِ ستائش اقدام ہے۔ اس تقریب میں ڈرامے کی صنعت سے وابستہ سینئر فنکاروں نے شرکت کی اور ذہین طاہرہ کی شخصی اور فنی خوبیوں پر روشنی ڈالی۔ ایسے لمحات کسی بھی فنکار کے لیے دلکش بھی ہوتے ہیں اور دل سے قریب بھی۔

اداکارہ نے اپنے کیریئر میں 700 سے زائد ڈراموں میں کام کیا —فوٹو/ اسکرین شاٹ
اداکارہ نے اپنے کیریئر میں 700 سے زائد ڈراموں میں کام کیا —فوٹو/ اسکرین شاٹ

ذہین طاہرہ کو 2013ء میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے تمغہءِ امتیاز سے نوازا گیا
ذہین طاہرہ کو 2013ء میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے تمغہءِ امتیاز سے نوازا گیا

ذہین طاہرہ جیسی فنکارہ، جن کے چہرے پر تو ایک متانت اور ٹھہراؤ ہوتا ہے، لیکن وہ دل و دماغ میں برپا کئی طوفانوں سے نبردآزما ہوتے ہیں، جس طرح ذہین آپا کے دل میں ایک غم جاگزیں تھا۔ ان کی اکلوتی بیٹی کینسر کے مرض میں مبتلا ہے، جس کی صحتیابی کے لیے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی۔ سب کے درمیان ہنستے کھیلتے بھی وہ اندر سے شاید تنہائی کا شکار تھیں، جس کا اظہار وہ اپنے قریبی حلقہ احباب سے کرتیں، مگر مجال ہے کبھی انہوں نے اپنے چہرے سے کسی بھی پریشانی کا احساس ہونے دیا ہو۔

وہ ایک ایسی تہذیبی کی پروردہ تھیں، جہاں سفید پوشی کا بھرم رکھا جاتا ہے۔ ایک ایسی فنکارہ جنہوں نے زندگی کی اصل کہانی میں بھی کامیابی سے اپنے کردار نبھائے۔ پاکستانی ڈرامے کی تاریخ میں ذہین طاہرہ کا نام ذہین فنکارہ کے طور پر روشن حروف میں لکھا جائے گا۔