برطانیہ کا عراق اور افغانستان کو ہزاروں سال قدیم نوادرات واپس کرنے کا اعلان

09 جولائ 2019

ای میل

میوزیم کے ڈائریکٹر ہارٹ وگ فسچر نے کہا کہ افسوس یہ کام اب پہلے سے زیادہ ضروری ہے — فوٹو: برٹش میوزیم فیس بک
میوزیم کے ڈائریکٹر ہارٹ وگ فسچر نے کہا کہ افسوس یہ کام اب پہلے سے زیادہ ضروری ہے — فوٹو: برٹش میوزیم فیس بک

برطانیہ نے عراق اور افغانستان سے قبضے میں لی گئی قدیم نوادرات ان کے اصل ملک واپس دینے کا اعلان کردیا۔

لندن میں واقع برٹش میوزیم نے بتایا کہ وہ برطانوی بارڈر فورس اور دارالحکومت کی میٹرو پولیٹن پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر تنازع کے دور اسمگل کیے گئے تھے۔

میوزیم کے ڈائریکٹر ہارٹ وگ فسچر نے کہا کہ افسوس یہ کام اب پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔

افغانستان بھیجے جانے والی نوادرات میں گندھارا دور کے مجسمے شامل ہیں جو 2002 میں غیر قانونی طریقے سے برطانیہ بھیجے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: فرانس نے ہزاروں سال قدیم نوادرات پاکستان کے حوالے کردیں

اس کے علاوہ عراق واپس بھیجے جانے والی نوادارت میں بین النہرین کی قدیم تہذیب میں مٹی پر کھودی گئیں 154 تحریریں شامل ہیں جو رسم الخط کے ابتدائی طور کی نشانی ہے، انہیں 2011 میں قبضے میں لیا گیا تھا۔

یہ تحریریں قبل مسیح چھٹی اور چوتھی صدی کے درمیان لکھی گئی تھیں، جن میں سے اکثر کا تعلق اریسا گرگ سے ہے، یہ مقام 2003 میں اس وقت دریافت ہوا جب اس کے نوادارت زمینی سطح پر ظاہر ہوئی تھیں۔

ہارٹ وگ فسچر نے کہا کہ ’ برٹش میوزیم عراق اور افغانستان سے لائی گئی نوادرات کی شناخت اور ان کی واپسی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کام کررہا ہے اور یہ اشیا حیران کن ہیں‘۔

یہ نوادرات بغداد میں واقع عراق میوزیم کے حوالے کی جائیں گی جو عراق کے اسٹیٹ برائے آثار قدیمہ و ورثہ کا حصہ ہے۔

گندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والی نوادرات اس وقت ملیں جب ہیتھرو ایئر پورٹ پر برطانوی حکام کی توجہ پاکستان کے شہر پشاور سے بھیجے گئے تو 2 لکڑی سے بنے کریٹ پر گئی جنہیں کھولا گیا تو ان میں یہ خوبصورت مجسمے موجود تھے۔

ہارٹ وگ فسچر نے بتایا کہ ’ کریٹ میں بودھی ستو کا دھڑ اور مٹی سے بنے 9 سروں کا گروہ موجود تھا جن پر بعد میں رنگ کیا گیا تھا‘۔

یہ بھی پڑھیں: 6 ہزار سال پرانے نوادرات کراچی سے کوئٹہ منتقل

انہوں نے کہا کہ میوزیم نے ان نوادرات کی واپسی سے قبل ان میں سے کچھ اشیا کی لندن میں نمائش کے لیے نیشنل میوزیم آف افغانستان سے اجازت طلب کی ہے۔

برٹش میوزیم آثار قدیمہ کے حکام، کلیکٹرز، ڈیلرز اور قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے پر بھی کام کررہا ہے جس کا مقصد اسمگل کی گئی اشیا کی شناخت کرکے مصر اور سوڈان کو واپس کرنا ہے۔

اسکیم نے 700 غیر قانونی نوادرات کی شناخت کی ہے جو ماضی میں ان 2 ممالک سے اسمگل کی گئی تھیں۔

ہارٹ وگ فسچر نے کہا کہ یہ تمام پروجیکٹس اور دنیا بھر میں اس کے لیے برٹش میوزیم جو کچھ کررہا ہے یہ ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

تاہم میوزیم کو کچھ متنازع اشیا ان کے اصل ممالک کو واپس نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے جن میں پارتھینون ماربلز قابل ذکر ہیں، انہیں ایلگن ماربلز کے نام سے بھی جانا ہے اور یونان طویل عرصے سے ان کی ملکیت کا دعویٰ کررہا ہے۔


یہ خبر 9 جولائی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی