لبنانی گلوکارہ برقینی اور سوئمنگ کرنے والی خواتین سے متعلق غلط فہمی کا شکار؟

ای میل

امل حجازی نے 2017 میں گلوکاری کو خیرباد کہا تھا—فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام
امل حجازی نے 2017 میں گلوکاری کو خیرباد کہا تھا—فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام

گزشتہ ماہ 29 جون کو یورپی ملک فرانس کے جنوب مشرقی شہر گرونوبل کی انتظامیہ نے خواتین کی جانب سے برقینی پہن کر سوئمنگ پول میں نہانے کے بعد سوئمنگ پول بند کردیے تھے۔

گرونوبل میں برقینی پہن کر سوئمنگ کرنے پر 2017 سے پابندی عائد تھی، تاہم خواتین نے اس پابندی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر سماجی تنظیم کی کال پر برقینی پہن کر سوئمنگ پول میں نہاکر منفرد احتجاج کیا تھا۔

حکام کے مطابق برقینی پہننے والی خواتین کو سوئمنگ پول میں دیکھ کر لوگ خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔

برقینی سوئمنگ کا ایک ایسا لباس ہے، جس میں خواتین نے اپنا پورا جسم ڈھانپا ہوا ہوتا ہے اور یہ لباس زیادہ تر یورپی و امریکی مسلمان خواتین سوئمنگ کے دوران کرتی ہیں۔

خواتین کی جانب سے جسم کو مکمل ڈھانپنے والے سوئمنگ کے لباس برقینی پہننے کے بعد گرونوبل شہر کی انتظامیہ نے سوئمنگ پول ہی بند کردیے تھے، جس کے بعد شہری انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

فرانس کے شہر گرونوبل میں جون میں سوئمنگ پول بند کیے گئے تھے—فوٹو: رائٹرز
فرانس کے شہر گرونوبل میں جون میں سوئمنگ پول بند کیے گئے تھے—فوٹو: رائٹرز

گرونوبل کی شہری اتنظامیہ پر سب سے زیادہ تنقید عرب دنیا کی جانب سے کی گئی تھی اور خصوصی طور پر خواتین نے برقینی پہن کر سوئمنگ کرنے پر پابندی پر ایک بار پھر احتجاج کیا۔

اسی احتجاج کے سلسلے میں لبنان کی ماضی کی مقبول گلوکارہ و نعت خواں 42 سالہ امل حجازی نے بھی سوشل میڈیا پر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے سوئمنگ پولز میں برقینی پہننے والی خواتین کے داخلے پر پابندی کے خلاف آواز بلند کی۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس: خواتین کی جانب سے برقینی پہن کر نہانے کے بعد سوئمنگ پول بند

امل حجازی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کسی ساحل سمندر پر نصب بورڈ پر آویزاں برقینی میں ملبوس خاتون کی تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے برقینی پہننے والی خواتین پر پابندی کے خلاف آواز بلند کی۔

فرانس میں برقینی پر پابندی کے خلاف سماجی تنظیم نے احتجاج بھی کیا تھا—فوٹو: —سٹیزن الائنس آف گرونوبل
فرانس میں برقینی پر پابندی کے خلاف سماجی تنظیم نے احتجاج بھی کیا تھا—فوٹو: —سٹیزن الائنس آف گرونوبل

لبنانی گلوکارہ کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں ساحل سمندر پر نصب بورڈ میں برقینی میں ملبوس کسی خاتون کو دکھایا گیا ہے اور ساتھ ہی انگریزی حروف میں ’خطرناک حالات‘ کا جملہ لکھا گیا ہے۔

امل حجازی نے یہی تصویر شیئر کرتے ہوئے عربی میں اسی تصویر پر ’ممنوع‘ کے الفاظ لکھے اور ٹوئیٹ میں بتایا کہ مغربی دنیا میں ایسے بورڈز ساحل سمندر پر جانوروں کو آنے سے روکنے کے لیے لکھے جاتے ہیں۔

اگرچہ امل حجازی نے اپنے ٹوئیٹ میں یہ نہیں بتایا کہ یہ تصویر کس ملک اور کس شہر کے ساحل سمندر کی ہے، تاہم ان کی جانب سے تصویر شیئر کیے جانے پر کئی لوگ ان کے خیالات سے سہمت دکھائی دیے۔

امل حجازی نے ساحل سمندر پر آویزاں بورڈ کی تصویر کے ساتھ ٹوئیٹ کیا—اسکرین شاٹ
امل حجازی نے ساحل سمندر پر آویزاں بورڈ کی تصویر کے ساتھ ٹوئیٹ کیا—اسکرین شاٹ

کئی افراد نے برقینی پہن کر خواتین کے سوئمنگ پول میں نہانے پر پابندی کے فیصلے کو غیر انسانی رویہ قرار دیا اور کہا کہ پردے سے خواتین کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔

بعض افراد نے امل حجازی کے خیالات سے اختلاف بھی کیا، تاہم زیادہ تر افراد نے ان سے اتفاق کیا۔

امل حجازی کی جانب سے ساحل سمندر پر برقینی پہنی خواتین کی پابندی والی تصویر شیئر کیے جانے کے بعد معروف عرب صحافی محمود غزیل نے بھی کمنٹ کیا اور دعویٰ کیا کہ گلوکارہ نے غلطی سے جعلی تصویر شیئر کی ہے۔

محمود غزیل ’20 فور میڈیا‘ سے وابستہ ہیں اور انہوں نے امل حجازی کے ٹوئیٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے گلوکارہ پر واضح کیا کہ انہوں نے فوٹو شاپ کی ہوئی تصویر استعمال کی ہے۔

امل حجازی نے فوٹو شاپ تصویر شیئر کی، صحافی محمود غزیل—اسکرین شاٹ
امل حجازی نے فوٹو شاپ تصویر شیئر کی، صحافی محمود غزیل—اسکرین شاٹ

عرب صحافی نے امل حجازی کو مخاطب ہوتے ہوئے اصل تصویر شیئر کی اور کہا کہ جو گلوکارہ نے تصویر شیئر کی ہے وہ اصل تصویر کا دوسرا فوٹو شاپ ورژن ہے۔

محمود غزیل کی جانب سے شیئر کی گئی اصل تصویر میں ساحل سمندر پر آویزاں بورڈ پر انگریزی میں جملہ لکھا ہوا ہے کہ ’خراب موسمی حالات کی وجہ سے ساحل سمندر کو بند کردیا گیا ہے‘۔

عرب صحافی نے بتایا کہ اصلی تصویر میں برقینی پہنی ہوئی خاتون کی تصویر شامل کرکے انگریزی کے جملے کو بھی مختصر کرکے اسے فوٹو شاپ کے ذریعے بدل دیا گیا۔

امل حجازی نے پہلے ہی میوزک ایلبم سے شہرت حاصل کی تھی—فوٹو: فیس بک
امل حجازی نے پہلے ہی میوزک ایلبم سے شہرت حاصل کی تھی—فوٹو: فیس بک

عرب صحافی کی جانب سے نشاندہی پر فوری طور پر امل حجازی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

خیال رہے کہ امل حجازی نے ابتدائی طور پر بطور گلوکارہ کیریئر کا آغاز کیا اور انہوں نے 2011 میں اپنا پہلا میوزک ایلبم ریلیز کیا اور وہ دوسرے ایلبم ریلیز کرنے تک عرب دنیا کی معروف گلوکارہ بن چکی تھیں۔

امل حجازی نے ستمبر 2017 میں گلوکاری کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تھا—اسکرین شاٹ
امل حجازی نے ستمبر 2017 میں گلوکاری کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا تھا—اسکرین شاٹ

امل حجازی کے 2002 میں ریلیز ہونے والے دوسرے ایلبم کو عرب موسیقی کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا میوزک ایلبم بھی قرار دیا جاتا ہے۔

بطور گلوکارہ امل حجازی نے 30 سال سے کم عمری میں ہی شہرت حاصل کی اور عرب نوجوانوں کی پسندیدہ ترین گلوکارہ بن گئیں۔

امل حجازی نے 5 ستمبر 2017 کو پہلی بار حجاب کے ساتھ تصویر شیئر کی تھی—اسکرین شاٹ
امل حجازی نے 5 ستمبر 2017 کو پہلی بار حجاب کے ساتھ تصویر شیئر کی تھی—اسکرین شاٹ

ان پر لبنان کی دوسری معروف گلوکاراؤں کے گلوکاری کے انداز کو کاپی کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے جب کہ کویت نے ان پر ماضی میں ملک میں داخل ہونے اور میوزک کنسرٹ کرنے پر بھی پابندی عائد کی تھی۔

ان پر نئی نسل اور خصوصی طور پر لڑکیوں کو بے راہ روی کی جانب راغب کرنے کا فیشن متعارف کرانے کا الزام بھی لگایا جاتا رہا، تاہم 2017 میں انہوں نے موسیقی اور فیشن کی دنیا کو خیرباد کرنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔

امل حجازی نے ستمبر 2017 میں فیس بک پوسٹ کے ذریعے موسیقی کو خیرباد کہ کر نعت خوانی میں قسمت آزمانے کا اعلان کیا اور چند دن بعد ہی انہوں نے حجاب کے ساتھ پہلی تصویر شیئر کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔

امل حجازی نے 2017 کے آخر میں ’ رقّت عيناي شوقاً‘ نعت جاری کرکے سب کے دل جیت لیے، ان کا یہ نعت نہ صرف عرب دنیا بلکہ پوری مسلم دنیا میں مقبول ہوا۔

ان کے اسی نعت کو عرب دنیا کے دیگر نعت خوانوں سمیت پاکستان کے نعت خوان بھی پڑھ چکے ہیں۔