13 لیگی سینیٹرز چیئرمین سینیٹ کے خلاف ووٹ نہیں دیں گے، فیصل جاوید

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2019

ای میل

ناکامی کی صورت میں اپوزیشن کو بڑا نقصان ہوگا، سینیٹر فیصل جاوید
—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ناکامی کی صورت میں اپوزیشن کو بڑا نقصان ہوگا، سینیٹر فیصل جاوید —فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید نے دعویٰ کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیش کی تحریک عدم اعتماد کو مسلم لیگ (ن) کے 12 سے 13 سینیٹرز ووٹ نہیں دیں گے۔

انہوں نے اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ناکامی کی صورت میں انہیں بڑا نقصان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو چیئرمین سینیٹ کی حمایت کریں گے، وزیراعظم

تحریک انصاف کے سینیٹر نے خبردار کیا کہ ابھی اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا رہے ہیں لیکن بعد میں ہم لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے صادق سنجرانی کی جیت کو بلوچستان کی فتح قرار دیا تھا۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اپوزیشن کا کیمپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور مسلم لیگ ن کے سینیٹرز بھی ان کے اراکین قومی اسمبلی کی طرح متنفر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ٹویٹ میں کہا کہ آج جنرل ضیاالحق کے’اوپننگ بیٹسمین‘ کو شکست ہوئی تاہم تحریک عدم اعتماد کے بعد بلاول بھٹو کو اپنے ٹویٹ کو ر ی ٹویٹ کر نا پڑے گا۔

مزیدپڑھیں: اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد جمع کروادی

سینیٹر نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن کےبعض اراکین تکنیکی طور پر آزاد حیثیت رکھتےہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ اپوزیشن کے باقی اراکین بھی اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں کیونکہ اپوزیشن میں بھی سمجھ بوجھ رکھنے والے بہترین لوگ موجود ہیں جو سمجھتے ہیں یہ غلط ہو رہا ہے۔

تحریک عدم اعتماد پر چیئرمین سینیٹ کا مؤقف

دوسری جانب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع ہونے پر کوئی پریشانی نہیں اور وہ کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے صادق سنجرانی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمہوری عمل ہے، قرارداد جمع ہونے پر کوئی پریشانی نہیں، میں بیٹھا ہوں اور اپنا کام کر رہا ہوں۔

اس سوال پر کہ بلاول بھٹونے کہا ہے کہ آپ کومستعفی ہو جانا چاہیے، چیئرمین سینیٹ نے جواب دیا کہ 'کسی صورت استعفیٰ نہیں دوں گا۔'

اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد

ملک کی 2 بڑی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایوان بالا میں موجود اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد اور سینیٹ اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کروائی تھی۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کو سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروانے کے لیے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کا ایک اجلاس سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق کی صدارت میں ہوا، جس میں تحریک عدم اعتماد کے لیے حکمت عملی اپنائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: میرے اور چیئرمین سینیٹ کے درمیان اختلافات نہیں، سلیم مانڈوی والا

یاد رہے کہ صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے چیئرمین سینیٹ ہیں۔

ایوان بالا کے چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ 26 جون کو اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔

صادق سنجرانی نے گزشتہ برس 12 مارچ کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے 57 ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے۔