'کرپٹ عناصر کو سزائیں دیئے بغیر ملک کا تحفظ ممکن نہیں'

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2019

ای میل

تاجروں کی مدد کے بغیر قرضوں کے جال سے جان نہیں چھڑا سکتے، عمران خان — فوٹو: ڈان نیوز
تاجروں کی مدد کے بغیر قرضوں کے جال سے جان نہیں چھڑا سکتے، عمران خان — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں سے متعلق رویہ تبدیل کرنے تک ملک آگے نہیں جاسکتا جبکہ کرپٹ عناصر کو سزائیں دیئے بغیر ملک کا تحفظ ممکن نہیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 'ایک سال میں اکٹھا ہونے والا ٹیکس کا نصف قرضوں پر سود کی مد میں چلا گیا، ٹیکسوں سے متعلق رویہ تبدیل کرنے تک ملک آگے نہیں جاسکتا، ٹیکس نہیں دیں گے تو مزید نوٹ چھاپنے پڑیں گے اور مہنگائی بڑھےگی جبکہ تاجروں کی مدد کے بغیر قرضوں کے جال سے جان نہیں چھڑا سکتے۔'

انہوں نے کہا کہ 'گھر میں کوئی چوری کرے تو اسے سزا دی جاتی ہے، کرپٹ لوگوں کو سزا نہ ملے تو کرپشن بڑھ جاتی ہے، مجھے کہا جارہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھوں لیکن کرپٹ عناصر کو سزائیں دیئے بغیر ملک کا تحفظ ممکن نہیں اور کرپشن کے ہوتے ہوئے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔'

عمران خان کا کہنا تھا کہ 'معیشت کے استحکام کے لیے صنعتوں کو ترقی دینا ہوگی، ہم غیر ضروری درآمدات کم کر رہے ہیں، ملکی آمدن بڑھانے کے لیے تاجروں سے مل کر اقدامات اٹھا رہے ہیں اور بیرون ملک سے قانونی ذرائع سے ترسیلات زر منگوا رہے ہیں۔'

اپوزیشن کی جانب سے حکومت گرانے کی باتوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'جو لوگ کہتے ہیں حکومت گرا دو وہ میرے منہ سے 3 الفاظ سننا چاہتے ہیں'این آر او'، یہ 3 الفاظ کہہ دوں تو ملک ٹھیک ہو جائے گا، یہ لوگ بلیک میل کر رہے ہیں کہ ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا جبکہ بارہویں کھلاڑی کو حکومت گرانے میں زیادہ دلچسپی ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی بے نامی اثاثہ جات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کی ہدایت

ان کا کہنا تھا کہ حکومت گرانے کی باتیں کرنے والی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے، آپس میں مک مکا کر لیا کہ نہ تم ہمیں پکڑنا نہ ہم تمہیں پکڑیں گے اس لیے ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے تک گیا، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کو کس سطح پر لوٹا گیا، لیکن اب یہ ڈریں ہوئے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ ہمیں ان کی کرپشن اور چوری سے متعلق ہر روز نئی معلومات مل رہی ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر پرزور انداز میں کہا کہ 'ان کرپٹ لوگوں کو کبھی این آر او نہیں دوں گا، این آر او دینا قوم سے غداری ہے، اللہ کو جواب دہ ہوں، قوم سے کبھی غداری نہیں کروں گا۔'

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ سندھ میں کبھی کسی نے گورنر راج کی بات نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی حکومت ہے جس کے وزیر اعظم کی کوئی فیکٹری یا کاروبار نہیں، قوم جانتی ہے کہ میرا جینا مرنا ااس ملک کے ساتھ ہے، میرا کوئی پیسہ یا جائیداد ملک سے باہر نہیں اس لیے لوگ جانتے ہیں کہ میں جو بھی کر رہا ہوں اپنے ملک کے لیے کر رہا ہوں۔

وزیر اعظم کا دورہ کراچی

واضح رہے کہ وزیر اعظم بدھ کو ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچے تھے جہاں انہوں نے تاجروں سے ملاقات کی اور ملکی معاشی صورتحال سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر انہوں نے ملک میں جاری معاشی بحران کے پیش نظر کراچی میں تاجروں کو حکومت کے ساتھ لے کر چلنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ ان کی پوری معاشی ٹیم بھی تاجر برادری سے ملاقات کے دوران موجود تھی۔

تاجر برادری کے وفد نے وزیر اعظم کے سامنے ٹیکس نظام میں اصلاحات، آمدنی بڑھانے، افراط زر اور اسملنگ کی روک تھام، کاروبار کے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری کے فروغ اور ملازمتوں کے موقع پیدا کرنے سے متعلق تجاویز بھی پیش کیں۔

عمران خان نے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل سے بھی ون آن ون ملاقات کی اور کراچی سمیت پورے سندھ کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے جلد ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں جاری منصوبوں کے لیے وفاق اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

گورنر سندھ نے تاجروں کے مسائل اور مطالبات کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ بھی کیا تھا۔