اینکر پرسن کے قتل کی تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل

10 جولائ 2019

ای میل

مرید عباس کو گزشتہ روز مالی تنازع پر قتل کردیا گیا تھا — فوٹو: سوشل میڈیا
مرید عباس کو گزشتہ روز مالی تنازع پر قتل کردیا گیا تھا — فوٹو: سوشل میڈیا

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی نے اینکر پرسن مرید عباس اور ان کے دوست کے قتل کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی۔

ڈی آئی جی جنوبی شرجیل کھرل نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن (جنوبی) طارق دھاریجو کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی، جس کے اراکین میں ایس ایس پی جنوبی شیراز نذیر، ایس پی کلفٹن سوہائے عزیز اور دیگر شامل ہیں۔

نجی چینل 'بول ٹی وی' کے اینکر پرسن مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو عاطف زمان نامی ملزم نے گزشتہ روز ڈیفنس میں درخشاں تھانے کی حدود میں قتل کر دیا تھا۔

واقعے کے بعد ملزم نے اسی علاقے میں اپنی رہائش گاہ پر پولیس کے پہنچنے پر خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔

ایس ایس پی جنوبی شیراز نذیر کا کہنا تھا کہ 'ملزم عاطف زمان نے خود کو سینے میں گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی جسے علاج کے لیے نجی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی حالت بہتر ہورہی ہے۔'

سینئر پولیس افسر نے ڈاکٹروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'عاطف زمان کے دل کو گولی سے نقصان نہیں پہنچا۔'

تاہم درخشاں تھانے کے ایس ایچ او شاہ جہاں لاشاری نے ڈان کو بتایا کہ ملزم، اس وقت تفتیش کاروں کو کوئی بیان دینے کی حالت میں نہیں ہے کیونکہ ڈاکٹرز نے اسے آرام کا مشورہ دیا ہے۔

واقعے کے ممکنہ محرک سے متعلق ایس ایس پی جنوبی شیران نذیر نے کہا کہ مرید عباس، خضر حیات اور عاطف زمان دوست اور کاروباری شراکت دار تھے جن کے درمیان مالی تنازع نے دشمنی کو جنم دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عاطف پر مرید اور خضر کا بڑا قرضہ تھا جس کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔'

واقعے کا مقدمہ

درخشاں پولیس نے دوہرے قتل اور خودکشی کی کوشش کے دو الگ، الگ مقدمات درج کیے تھے۔

ایک مقدمہ مرید عباس کی اہلیہ کی مدعیت میں عاطف زمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (قتل) کے تحت درج کیا گیا۔

عاطف زمان کے خلاف دوسرا مقدمہ پولیس افسر عبدالرحمٰن کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 325 کے تحت درج کیا گیا ہے۔