بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات کل دوبارہ شروع ہوں گے

11 جولائ 2019

ای میل

امریکی تجارتی نمائندوں کا وفد بھارتی وزیر برائے کامرس پیوش گویل اور دیگر اہم تجارتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا — فائل فوٹو/ رائٹرز
امریکی تجارتی نمائندوں کا وفد بھارتی وزیر برائے کامرس پیوش گویل اور دیگر اہم تجارتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا — فائل فوٹو/ رائٹرز

بھارت اور امریکا کے درمیان حالیہ چند ماہ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر عائد کیے گئے محصولات سے متعلق تجارتی مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگا جس میں کچھ اقدامات پر سمجھوتے کا امکان ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’ رائٹرز‘ کے مطابق جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکا کے اسسٹنٹ تجارتی نمائندے ( اے یو ایس ٹی آر) کرسٹوفر ولسن کی قیادت میں وفد بھارتی حکام سے ملاقات کرے گا اور ایک دوسرے پر عائد کیے گئے محصولات پر مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنے کی کوشش کریں گے جنہیں بھارتی انتخابات کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔

یو ایس ٹی آر کے ترجمان نے کہا کہ ’ چونکہ بھارت کا انتخابی مرحلہ گزر چکا ہے لہٰذا یو ایس ٹی آر کے حکام بھارتی حکومت میں ہم منصبوں سے تعلقات قائم کرنے کے لیے بھارت کا دورہ کررہے ہیں‘۔

امریکی تجارتی نمائندوں کے وفد 12 جولائی کو بھارتی وزیر برائے کامرس پیوش گویل اور دیگر اہم تجارتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا اور وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے بھارتی محصولات کو پھر ناقابل قبول قرار دے دیا

رواں برس مئی میں دوبارہ منتخب ہونے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی الیکٹرانک اشیا سمیت ہر چیز پر بھاری محصولات عائد کررہے ہیں تاکہ ای کامرس کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں مقامی کمپنیوں کے کاروبار میں اضافہ ہو اور کروڑوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی نے جون میں اوساکا میں منعقد جی-20 اجلاس میں ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قائم کرنے اور تجارتی مسائل حل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس حوالے سے بھارتی عہدیدار نے کہا کہ 12 جولائی کو ہونے والی ملاقات میں امریکی حکام کی جانب سے بھارت کی جانب سے غیر ملکی کمپنیوں کا ڈیٹا مقامی طور پر جمع کیے جانےکی کوششوں کی مخالفت کا امکان ہے۔

ایک اور عہدیدار نے کہا کہ ’ یو ٹی ایس آر سے ملاقات کا مطلب جی-20 میں ہونے والے مثبت تبادلہ خیال کے بعد مزید بات چیت کرنا ہے لیکن ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں سخت موقف پر قائم رہنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے‘۔

واشنگٹن کی جانب سے ای کامرس سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین کا دوبارہ جائزہ لیے جانے کا بھی امکان ہے جس کی وجہ سے والمارٹ انکارپوریٹڈ فلپ کارٹ اور ایمازون ڈاٹ کام جیسی کمپنیاں اپنی کاروباری حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے امریکی مصنوعات پر بھارتی ڈیوٹی کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے دیا

بھارتی وزارت تجارت نے امریکی وفد کے دورے سے متعلق سوالات کو جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب بھارتی پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بھارت کے ساتھ مفت تجارت کا معاہدہ کرسکتی ہے جس سے بھارتی مصنوعات کے مقابلے کا نقصان ہوگا اور مودی کے ’ میک اِن انڈیا ‘ منصوبہ بھی متاثر ہوگا۔

ایک عہدیدار کے مطابق حالیہ اجلاس میں بھارتی وزیر ضارجہ نے وزارت تجارت کے عہدیداران کو بتایا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر کچھ بڑا کرنے کی تیاری کررہے ہیں‘۔

دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ابق امریکی صدر نے الزام لگایا کہ بھارت امریکی مصنوعات کا راستہ روک رہا ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’بھارت کے پاس امریکی مصنوعات پر برآمدی محصولات عائد کرنے کا فیلڈ ڈے ہے،اب یہ محصولات ناقابل قبول ہیں‘۔

مزید پڑھیں: امریکا نے بھارت کو تجارت میں حاصل ترجیحی سہولت ختم کردی

اس سے قبل 27 جون کو امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے پر بات کروں گا کہ سالوں سے بھارت، امریکا پر محصولات عائد کر رہا ہے اور حال ہی میں اس ٹیرف میں مزید اضافہ کیا ہے، یہ ناقابلِ قبول ہے اور یہ محصولات لازمی طور پر ختم ہونے چاہئیں‘۔

واضح رہے کہ یکم جون کو امریکا نے بھارت کو تجارت میں حاصل ترجیحی سہولت کا درجہ ختم کردیا تھا جس کے جواب میں بھارت نے 16 جون کو اخروٹ اور بادام سمیت 28 امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے تھے۔

بھارت، امریکا کے دہائیوں پرانے جنرلائزڈ سسٹم کے تحت ترجیحی سہولت سے فائدہ اٹھانے والا سب سے بڑا ملک تھا اور امریکی کانگریس کے اعداد و شمار میں کہا گیا کہ صرف 2017 میں 5 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کی ڈیوٹی فری برآمدات کی اجازت دی گئی تھی۔

واشنگٹن کی جانب سے اسٹیل اور المونیم پر ڈیوٹی سے استثنیٰ نہ دینے پر گزشتہ برس جون میں بھارت نے امریکا کی مختلف اشیا پر درآمد ٹیکس میں 120 فیصد اضافے کا حکم جاری کیا۔

تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کی وجہ سے نئی دہلی نے مذکورہ اضافے کو موخر کردیا تھا، 2018 میں بھارت اور امریکا کے درمیان 142 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی تھی۔