کشیدگی کے خاتمے تک پاکستان کا بھارت کیلئے فضائی حدود کھولنے سے انکار

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2019

ای میل

پی آئی اے  نے 2 ماہ کے عرصے میں ساڑھے 3 کروڑ روپے کی بچت کی—فائل فوٹو: رائٹرز
پی آئی اے نے 2 ماہ کے عرصے میں ساڑھے 3 کروڑ روپے کی بچت کی—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کی جانب سے کشیدہ صورتحال معمول پر نہ آنے تک اپنی فضائی حدود کھولنے کی درخواست مسترد کردی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کے اجلاس میں سیکریٹری ایوی ایشن نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے ہم سے فضائی حدود کھولنے کی درخواست کی تھی۔

جس پر ہم نے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا کہ پہلے بھارت اپنے لڑاکا طیاروں کو آگے کی پوزیشن سے واپس بلائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک-بھارت کشیدگی: فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع

دوران اجلاس سیکریٹری ایوی ایشن نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے منافع بخش اور خسارے میں چلنے والے روٹس کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے اراکین کے سوالات کا جواب بھی دیا۔

اس موقع پر پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے کمیٹی اراکین کو تفصیلات سے آگاہ کیا کہ منافع حاصل کرنے کے لیے 7 نئے روٹس کا آغاز کیا گیا ہے جبکہ خسارے میں چلنے والے 5 روٹس بند کردیے گئے۔

اعلیٰ حکام کے مطابق آپریشن کی لاگت میں 20 فیصد بچت، کارگو سروس کو بہتر بنا کر، پروازوں میں تاخیر پر قابو پاکر، ایندھن کے انتظامات اور خوراک کی پروکیورمنٹ کو مرکزی سطح پر منتقل کرنے سے پی آئی اے کی آمدنی میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی پی آئی اے کو منافع بخش ادارے بنانے کی ہدایت

انہوں نے وضاحت دی کہ سامان کے وزن کی حد میں 11 فیصد اضافے اور کارگو کے بوجھ کو 55 فیصد بہتر بنا کر پی آئی اے نے 2 ماہ کے عرصے میں ساڑھے 3 کروڑ روپے کی بچت کی۔

سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے 15 مہینوں سے غیر فعال بوئنگ-777 اور اے-320 کو 30 لاکھ ڈالر کی لاگت سے مرمت کر کے بحال کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بیڑے میں اب 28 طیارے شامل ہیں اور ہم 2 نئے طیارے لیز پر بھی لے رہے ہیں۔


یہ خبر 12 جولائی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔