پولیو پروگرام کی کارکردگی کے اعداد و شمار تبدیل کیا گیا، ترجمان وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2019

ای میل

ماضی میں پولیو وائرس کے خاتمے کے بجائے توجہ کیسز کی تعداد میں کمی لانے پر لگائی گئی تھی، بابر بن عطا — فائل فوٹو/اے ایف پی
ماضی میں پولیو وائرس کے خاتمے کے بجائے توجہ کیسز کی تعداد میں کمی لانے پر لگائی گئی تھی، بابر بن عطا — فائل فوٹو/اے ایف پی

اسلام آباد: پولیو کے کیسز میں اضافے کے بعد پولیو پروگرام کی نئی قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پولیو پروگرام کی کارکردگی کے حوالے سے اعداد و شمار میں تبدیلی کی گئی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماضی میں پولیو وائرس کے خاتمے کے بجائے تمام تر توجہ مرض کو کنٹرول کرنے اور کیسز کی تعداد میں کمی لانے پر لگائی گئی تھی۔

اس معاملے پر وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو بابر بن عطا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ جہاں 95 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں وہاں اس وائرس کا خاتمہ ہوگیا ہے، گزشتہ برسوں میں پولیو پروگرام کے اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 99 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے ہیں جبکہ چند کیسز جیسے جنوری 2019 کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو اس میں 101 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے، لہٰذا میرا ماننا ہے کہ فیلڈ اسٹاف کی جانب سے غلط اعداد و شمار دیے گئے کیونکہ ان کی کارکردگی پولیو کے قطرے پینے والے بچوں کی تعداد پر منحصر ہے'۔

مزید پڑھیں: مزید 4 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 41 ہوگئی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک نئی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے جس کے ذریعے ایک سال میں پشاور سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہوجائے گا۔

بابر بن عطا نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں 95 فیصد بچوں کو پولیو کی ویکسین کی گئی تھی اور انہوں نے پولیو سے پاک ملک بننے کا ہدف حاصل کرلیا۔

وزیر اعظم کے فوکل پرسن کا کہنا تھا کہ ' میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ فیلڈ اسٹاف اور منیجمنٹ کے دوران رابطے کا فقدان رہا ہے جس کی وجہ سے فیلڈ ورکرز نے 99 فیصد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا دعویٰ کیا، اس کے علاوہ والدین کے پاس بھی وہی مارکرز موجود ہیں جو ہم انگلیوں پر نشان لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے تصدیق کے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم جب بچے میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوتی ہے تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اسے پولیو ویکسین دینے سے انکار کردیا گیا تھا'۔

انہوں نے کہا کہ 'پشاور واقعے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ والدین پر دوا پلانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جائے گا کیونکہ پولیو مہمات کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ 8 فیصد والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔

یہ بات واضح رہے کہ اپریل میں قومی سطح پر ہونے والی پولیو مہم میں ماشوخیل کے اسکول کے طالب علموں کو پولیو کے قطرے پینے سے بیمار ہونے کی شکایت کے بعد حیات آباد میڈیکل کپلیکس پشاور لے جایا گیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ پولیو مہم کے خلاف ڈرامہ رچایا گیا تھا اور کوئی بھی بچہ بیمار نہیں تھا، اس ڈرامے میں ملوث چند افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو کے 5 نئے کیسز کے بعد رواں برس متاثرہ بچوں کی تعداد 37 ہوگئی

وزیر اعظم کے فوکل پرسن نے بتایا کہ 'گزشتہ ماہ ہم نے خیبر پختونخوا میں ایک سروے کیا جس میں انکشاف ہوا کہ 40 فیصد آبادی اس بات کو سمجھتی ہے کہ بچوں کو متعدد مرتبہ پولیو ویکسین ضرورت ہوتی ہے، تاہم 31 فیصد اس سے انکار کرتی جبکہ 27 فیصد آبادی اس معاملے سے لاعلم نظر آئی، سروے سے معلوم ہوا کہ 44 فیصد آبادی اپنے بچوں میں پولیو مرض کے خدشات کا شعور رکھتی ہے جبکہ 55 فیصد آبادی کو اس پر یقین ہی نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'بدقسمتی سے ماضی میں پولیو پروگرام کو وائرس کے خاتمے کے بجائے مرض سے نجات حاصل کرنے کا پروگرام سمجھا جاتا رہا ہے'۔

بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پولیو تحفظ ہیلپ لائن کا آغاز کیا جائے جس کے ذریعے والدین کو نہ صرف معاونت فراہم کی جائے گی بلکہ عمران خان کی آواز میں کال بھی کی جائے گی کہ پولیو ویکسین آپ کے اپنے بچوں کے مفاد میں ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 12 جولائی 2019 کو شائع ہوئی