ایف بی آر کا ٹیکس دہندگان کیلئے سنگل پورٹل کے آغاز کا فیصلہ

12 جولائ 2019

ای میل

یہ سنگل پورٹل اگست سے نافذالعمل ہوگا۔—فائل فوٹو: اے ایف پی
یہ سنگل پورٹل اگست سے نافذالعمل ہوگا۔—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے کاروبار کو اسان بنانے کی حکمت عملی کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور چاروں صوبوں میں ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے آن لائن پورٹل متعارف کروانے پر سمجھوتہ ہوگیا جس کے ذریعے وہ اشیا اور خدمات پر عائد سیلز ٹیکس ریٹرن فائل کر سکیں گے۔

اس سلسلے میں ایک سینیئر ٹیکس عہدیدار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سنگل پورٹل اگست سے نافذالعمل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ٹیکس اصلاحات کے آغاز میں ایک بڑا اقدام ہوگا جس کے ذریعے ٹیکس دہندگان اپنے ریٹرنز ایک سنگل پورٹل کے ذریعے جمع کرواسکیں گے۔

اس ضمن میں حتمی فیصلہ ایف بی آر کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں ایف بی آر کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: اصلاحات سے پاکستان میں ٹیکس وصولی کے ساتھ رشوت خوری میں بھی اضافہ ہوا، آئی ایم ایف

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق موجودہ میکانزم کے تحت ایف بی آر اشیا پر سیلز ٹیکس وصول کرتا ہے جبکہ صوبائی محکمہ مالیات خدمات پر ٹیکس حاصل کرتی ہیں۔

ایف بی آر کا اکٹھا ہونے والا ٹیکس قومی مالیاتی کمیشن کے فارمولے تحت صوبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

جس کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کو 5 مختلف ریٹرنز فائل کرنے میں مشکلات کس سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس پورٹل پر عملدرآمد کی صورت میں تمام ٹیکس دہندگان اشیا اور خدمات کے اپنے تمام سیلز ٹیکس ریٹرنز سنگل ونڈو کے تحت فائل کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں: اصلاحات پروگرام: ٹیکس، جی ڈی پی تناسب 17 فیصد کرنے کا ہدف طے

اس کے ساتھ پورٹل کے ذریعے تمام ٹیکس دہندگان کو ایف بی آر اور صوبائی سیلز ٹیکس ریٹرنز تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پورٹل کے ساتھ ساتھ 2 اہم اصلاحات بھی متعارف کروائی جائیں گی اس کے ساتھ ایف بی آر سیلز ٹیکس ریٹرن فارمز کو آسان بنانے کے لیے بھی کام کررہا ہے۔

مزید یہ کہ فائلرز دوہرے ٹیکس کے حوالے سے شکایات بھی درج کروا سکے گیں، اس حوالے سے عہدیدار کا کہنا تھا کہ مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صوبائی حکومت خدمات پر ٹیکس اس کی جگہ پر لیتی ہیں جبکہ انہیں خدمات کا ٹیکس وہاں بھی لیا جاتا ہے جہاں صارف رہائش پذیر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کروں گا، نامزد چیئرمین ایف بی آر

دوسری جانب سے ٹیکس پالیسی انلینڈ ریونیو ڈاکٹر حمید نے ڈان سے گفتگو کرے ہوئے واضح کیا کہ صرف رجسٹرڈ سیلس ٹیکس دہندگان کے لیے قومی شناختی کارڈ کی شرط ہے اور ملک میں رجسٹرڈ سیلز ٹیکس دہندگان کی تعداد تقریباً 40 ہزار ہے۔