’قاتل نے مرید عباس و دیگر ساتھیوں کو مارنے کا منصوبہ 6 روز قبل بنایا‘

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2019

ای میل

نجی ٹی وی اینکر کا مبینہ طور پر قتل کرنے والے ملزم کے خلاف ایک اور کیس درج کرلیا گیا — فائل فوٹو/فیس بک پیج مرید عباس
نجی ٹی وی اینکر کا مبینہ طور پر قتل کرنے والے ملزم کے خلاف ایک اور کیس درج کرلیا گیا — فائل فوٹو/فیس بک پیج مرید عباس

کراچی: درخشاں تھانے نے نجی ٹی وی اینکر 34 سالہ مرید عباس اور 45 سالہ خضر حیات پر پیسوں کے تنازع پر گولی چلانے والے ملزم عاطف زمان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق درخشاں تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر شاہ جہاں لشاری کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ واقعے میں بغیر لائسنس والے 30 بور کی پستول کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے پولیس نے ملزم کے خلاف سندھ آرمز ایکٹ کی دفعہ 23 اے کے تحت ایک اور مقدمہ درج کرلیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس کو ریاست کی مدعیت میں پولیس افسر کی جانب سے درج کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم کے خلاف مرید عباس کی اہلیہ کی شکایت پر دوہرے قتل کا مقدمہ اور خودکشی کی کوشش کا مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔

یہ بھی دیکھیں: نجی ٹی وی کے اینکر مرید عباس پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج

شاہ جہاں لشاری کا کہنا تھا کہ کلفٹن کے نجی ہسپتال میں داخل ملزم کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

پولیس نے دوہرے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ملزم قرض میں ڈوبا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس نے انتہائی قدم اٹھایا ہے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ 'مقتولین اور ملزم آپس میں دوست تھے اور کاروباری شراکت دار بھی تھے تاہم مالی تنازع پر ان میں تکرار ہوئی تھی'۔

ڈی آئی جی جنوب شرجیل کھرل نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیق کاروں کو دوہرے قتل میں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

سینیئر افسر نے انکشاف کیا کہ عاطف زمان پنجاب میں ڈبل شاہ کیس جیسا ریکٹ چلا رہا تھا جس میں لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہوئی تھی تاہم اس نے اپنے اہم شراکت داروں کو پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے پر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 50 سے زائد افراد نے 10 سے 15 کروڑ روپے ملزم عاطف زمان کو دے رکھے تھے اور وہ تمام افراد اپنی رقم/حصے کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یہ مبینہ جعلساز مہم کا آغاز 2015 میں ہوا تھا۔

بیان ریکارڈ

سینیئر افسر نے بتایا کہ ملزم کو ہسپتال میں ہوش آگیا ہے اور تفتیش کاروں نے اس کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا ہے۔

مبینہ قاتل نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے اپنے 4 اہم شراکت داروں کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا جو اپنے پیسے واپس مانگ رہے تھے۔

اس نے تمام افراد کو منگل کی شام کو بلایا تاہم 2 وہاں نہیں آئے۔

مزید پڑھیں: کراچی: ڈیفنس میں فائرنگ سے نجی چینل کا اینکر پرسن قتل

اس نے بتایا کہ اس نے اپنے شراکت داروں کو قتل کرنے کا 5 سے 6 روز قبل منصوبہ بنایا تھا۔

مبینہ خودکشی کے حوالے سے ڈی آئی جی جنوب کا کہنا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ اس نے خودکشی کی کوشش پولیس کے دباؤ اور گرفتاری سے بچنے کے لیے کی تھی۔

افسر کا کہنا تھا کہ پولیس ملزم کو ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد دوہرے قتل کیس میں گرفتار کرے گی۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جنوب شیراز نظیر جو تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بھی ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ ملزم کا کوئی کاروبار نہیں تھا اور وہ 50 کروڑ روپے کی جعلسازی مہم چلارہا تھا۔

ملزم نے میڈیا کی شخصیات کے علاوہ عام لوگوں سے لیے گئے پیسوں سے چند جائیدادیں اور مہنگی گاڑیاں خریدی تھیں تاہم اس کا کوئی مالی بیک گراؤنڈ نہیں، وہ ایک ڈرائیور تھا جو ٹائر کی دکان پر بھی کام کر چکا ہے۔

ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے 2014 میں پہلی مرتبہ 5 لاکھ روپے کا فراڈ کیا تھا۔

عدالت میں پیشی

مقامی عدالت نے ملزم عاطف زمان کو پیش کرنے کے لیے تفتیشی افسر کو 15 جولائی تک کا وقت دے دیا۔

تفتیشی افسر نے جوڈیشل مجسٹریٹ میں ابتدائی رپورٹ دائر کردی۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ملزم ایسی حالت میں نہیں کہ اسے عدالت منتقل کیا جائے جس کی وجہ سے اسے عدالت میں پیش کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

انہوں نے عدالت میں کیس کی تحقیقاتی رپورٹ بھی جمع کرائی۔

جج نے تفتیشی افسر کو وقت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزم کو 15 جولائی کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

واضح رہے کہ 9 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں نجی ٹی وی کے اینکر پرسن مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو عاطف نامی شخص نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔