بی جے پی کا مقبوضہ کشمیر میں ہندووں کی آباد کاری کا منصوبہ

12 جولائ 2019

ای میل

رام مادیو کو ریاستی انتخابات میں کامیابی کی امید ہے—فوٹو:رائٹرز
رام مادیو کو ریاستی انتخابات میں کامیابی کی امید ہے—فوٹو:رائٹرز

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیکریٹری جنرل رام مادیو نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے حکومت بنانے کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندووں کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے کیمپوں کی تعمیر کا منصوبہ بحال کرے گی۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور کشمیر امور کے ذمہ دار رام مادیو کا کہنا تھا کہ کشمیر میں 1989 میں شروع ہونے والی آزادی کی تحریک کے بعد وادی سے ہجرت کرنے جانے والے ہندووں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 2 لاکھ سے 3 لاکھ پہنچی ہے جن کی واپسی میں مدد کا منصوبہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

کشمیری ہندووں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘وادی میں واپسی کے ان کے بنیادی حق کا احترام کیا جائے اور اسی وقت ہمیں ان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا ہے’۔

مادیو کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کی سابق اتحادی حکومت نے الگ آباد کاری یا ایک ہی علاقے میں تعمیرات پر سوچ بچار کی تھی لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہوپائی تھی اور کسی ایک منصوبے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر: بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 4 نوجوان شہید

مقبوضہ کشمیر میں ہندووں کے حوالے سے تعمیرات کی ذمہ داری بھارت کی وفاقی وزارت داخلہ کی ہوگی تاہم ان کی جانب سے اس سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا گیا۔

یاد رہے کہ 2015 میں ریاستی حکومت کی جانب سے ہندو پنڈتوں کی مکمل واپسی کے ساتھ اسکولوں، شاپنگ مال، ہسپتال اور کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر کا منصوبہ تجویز کیا گیا تھا اور نقشے کا افتتاح بھی کیا گیا تھا۔

دوسری جانب حریت پسندوں کی جانب سے اس منصوبے کی سخت مخالفت کی گئی تھی اور اس کو فلسطینی علاقے میں اسرائیلی تعمیرات سے تشبیہ دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:'بھارت مقبوضہ کشمیر میں زمینی حقائق بدلنے کی کوشش کررہا ہے'

مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کی اتحادی حکومت جون 2018 میں ختم ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں یہ منصوبہ بھی ادھورا رہ گیا تھا اور مقبوضہ کشمیر کے معاملات براہ راست نئی دہلی انتظامیہ کے ہاتھ میں چلے گئے تھے۔

مقبوضہ کشمیر میں ریاستی انتخابات رواں برس کے آخر تک متوقع ہیں۔

ریاستی انتخابات

رام مادیو کے مطابق بی جے پی کو اعتماد ہے کہ وہ ریاستی انتخابات میں اس کو کامیابی حاصل ہوگی جس کے بعد آباد کاری کے منصوبے کو بحال کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں یقین ہے کہ جب ہم حکومت میں آئے تو ہم اس معاملے کو دوبارہ دیکھیں گی اور کوشش کریں گے کہ اس کا کوئی حل موجود ہے یا کوئی حل نکل سکتا ہے’۔

مقبوضہ کشمیر میں اس سے قبل بی جے پی کو کامیابی نہیں ملی تھی اس کے باوجود ان کی نظریں کسی اتحاد کے بغیر حکومت بنانے پر لگی ہوئی ہیں ۔

مزید پڑھیں:بھارتی فورسز کی فائرنگ سے مزید 3 کشمیری حریت پسند شہید

بی جے پی کے ایجنڈے میں مقبوضہ کشمیر میں ہندووں کی آباد کاری طویل عرصے سے شامل رہا ہے لیکن رواں برس مئی میں پارٹی کی دوبارہ کامیابی کے بعد اس معاملے کو اٹھایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1947 میں تاج برطانیہ سے آزادی کے بعد مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کی ہجرت زیادہ رہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی وادی جموں کے اطراف میں 800 پنڈت خاندان مہاجر کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آبادی تقریباً 70 لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے اور اس کا 97 فیصد مسلمان ہیں لیکن وہ بھارتی فوج اور پولیس کے نرغے میں ہیں اور وہ بھارتی قبضے سے آزادی چاہتے ہیں۔

بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مقبوضہ وادی میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 50 ہزار افراد گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارتی فوج اور پولیس کے ہاتھوں مارے گئے۔