وزارت تجارت کا پہلی ای کامرس پالیسی متعارف کروانے کا فیصلہ

ای میل

ای کامرس کو بروئے کار لاتے ہوئے برآمدات کو بڑھایا جائے گا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
ای کامرس کو بروئے کار لاتے ہوئے برآمدات کو بڑھایا جائے گا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ملک کی پہلی ای کامرس پالیسی متعارف کروانے کا فیصلہ کرلیا۔

وزارت تجارت کی جانب سے تیار کردہ اس پالیسی کو منظوری کے لیے کل (منگل کو) وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

اس حوالے سے تیار کیے گئے مسودہ میں ای کامرس کو ریگولیٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ای کامرس میں بتدریج اضافہ

مجوزہ پالیسی کے مطابق ای کامرس کو بروئے کار لاتے ہوئے برآمدات کو بڑھایا جائے گا، جس سے ملک میں روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

پالیسی کے مسودہ میں ملکی اور غیرملکی ٹرانزیکشن کے لیے موثر ای پیمنٹ انفرااسٹرکچر کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ ادائیگیوں کے لیے بین الاقوامی گیٹ وے قائم کرنے کی تجویز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اسی طرح پالیسی میں آن لائن کاروبار کو لازمی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کرنے کی تجویز ہے جبکہ ناکارہ اشیا کو ری ایکسپورٹ کے لیے اجازت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

وزارت تجارت کی جانب سے بنائی گئی اس پالیسی پر عمل درآمدار کے لیے وفاق اور صوبوں میں اسٹیرنگ کمیٹیوں کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں ای کامرس انڈسٹری کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے تاہم یہ اب بھی دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی پیچھے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’دراز ‘کو چین کی کمپنی علی بابا نے خرید لیا

تاہم اس کے باوجود اس صنعت میں ترقی اور بین الاقوامی منڈیوں کو پاکستانی صارفین سے جوڑنے کا سلسلہ جاری ہے اور آئے روز ای کامرس کے نت نئے رجحان کو فروغ دیا جارہا ہے۔

رواں سال جاری ہونے والے ایک اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں ای کامرس میں بتدریج اضافہ ہوا اور 2017 کے 51 اعشاریہ 8 ارب روپے کے مقابلے میں 2018 میں ای کامرس کا حجم 99 اعشاریہ 3 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس چین کی سب سے بڑی آن لائن کاروباری کمپنی علی بابا نے بھی پاکستان کی ای کامرس انڈسٹری میں دلچسپی دکھائی تھی اور پاکستان کی سب سے بڑی ویب سائٹ دراز ڈاٹ پی کے کو خرید لیا تھا۔