ڈیگاری کان حادثہ: جاں بحق مزدوروں کی تعداد 9 ہوگئی، ایک کا علاج جاری

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2019

ای میل

کان کنوں کی تلاش کے لیے 48 گھنٹے سے آپریشن جاری ہے، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے — فائل فوٹو: اے ایف پی
کان کنوں کی تلاش کے لیے 48 گھنٹے سے آپریشن جاری ہے، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے — فائل فوٹو: اے ایف پی

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں کوئلے کی کان میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا، تاہم اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 9 ہوگئی۔

ڈائریکٹری جنرل (ڈی جی) صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عمران زرکون کے مطابق کان میں پھنسے مزدوں کی تلاش کے لیے 48 گھنٹوں سے آپریشن جاری تھا جسے مکمل کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز زاہد سلیم اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمران زرکون ڈیگاری حادثے کے ریسکیو آپریشن کی رات گئے تک نگرانی میں مصروف رہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کان میں پھنسے افراد کی تعداد 11 بتائی جارہی تھیں، تاہم ریسکیو آپریشن کے بعد 10 مزدوروں کے کان میں پھنسے ہونے کی تصدیق کی گئی۔

عمران زرکون نے بتایا کہ کان میں پھنسے 8 مزدور زہریلی گیس بھر جانے کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ 2 کو زندہ جبکہ دیگر لاشیں نکال لی گئی تھیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زندہ 2 مزدوروں کو تشویش ناک حالت میں سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں ایک جانبر نہ ہوسکا اور جاں بحق ہوگیا۔

قبل ازیں کان میں پیش آنے والے حادثے پر مزدورں نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور اس حادثے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: دکی میں کان بیٹھنے سے 3 کان کن ہلاک

احتجاج کرنے والے مزدوروں نے ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران زرکون اور سیکریٹری مائنز زاہد سلیم سے مذاکرات کیے جس کے کامیاب ہونے پر احتجاج ختم کردیا گیا تھا۔

ڈی جی عمران زرکون نے مزدوروں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ کان میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اور آخری کان کن کو نکالے جانے تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔

انہوں نے مزدوروں کو بتایا تھا کہ ایمبولینسز، میڈیکل ٹیمیں، طبی امداد کے ہمراہ جائے حادثہ پر موجود ہیں اور امدادی کارروائی میں مصروف ہیں۔

عمران زرکون کا کہنا تھا کہ اس وقت 5 کان کن پھنسے ہوئے ہیں جبکہ 4 ہزار فٹ گہری کان سے مزدوروں کو نکالنے میں ریکسیو کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: کوئلے کی کان میں گیس بھرجانے سے دھماکا،4 کان کن جاں بحق

کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے نتیجے میں کان ہزاروں فٹ گہری کان میں پھنس گئے تھے۔

اس حوالے سے صوبائی وزیر برائے کان کنی اور معدنی ترقی شفقت فیاض کا کہنا تھا کہ حکام مزدوروں کو بچانے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شہوانی نے بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے حکام کو مزدوروں کو باحفاظت باہر نکالنے اور اپنی تکنیکی ٹیم جائے حادثے پر پہنچانے کی ہدایت کردی۔

ادھر بلوچستان لیبر فیڈریشن نے حکومتی کوششوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: کوئلے کی کان میں گیس بھرنے سے 2 کان کن ہلاک

فیڈریشن کے رہنما پیر محمد کاکڑ نے کہا تھا کہ نہ حکومت اور نہ ہی کان کے مالکان بے یارو مددگار مزدوروں کی حالت زار کا احساس نہیں کر رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مزدوروں کو کان کن میں پھنسے ہوئے 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود انتظامیہ نے اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں کان کنی مسائل کا شکار ہے، جہاں روز مرہ کی بنیادوں پر کان میں مزدوروں کے پھنسنے کے واقعات ہوتے ہیں جو میڈیا میں رپورٹ نہیں پاتے۔

پاکستان سینٹر مائنز لیبر فیڈریشن (پی سی ایم ایل ایف) کے مطابق کان کن میں ہونے والے حادثات میں سالانہ ایک سو سے 2 سو افراد جاں بحق ہوتے ہیں۔