افغانستان: طالبان کی دھمکیوں کے باعث ریڈیو اسٹیشن بند

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2019

ای میل

ریڈیواسٹیشن گزشتہ 4 سال میں تیسری مرتبہ بند ہوا ہے — فوٹو: اے پی
ریڈیواسٹیشن گزشتہ 4 سال میں تیسری مرتبہ بند ہوا ہے — فوٹو: اے پی

افغانستان کے مشرقی صوبے میں طالبان کے مقامی کمانڈر کی جانب سے مبینہ طور پر مسلسل دھمکیوں کے بعد مقامی ریڈیو اسٹیشن نے اپنی نشریات بند کر دیں۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے غزنی میں واقع سما اسٹیشن کے ڈائریکٹر رمیز عظیمی نے کہا کہ انہیں طالبان کمانڈر کی جانب سے ٹیلی فونک اور تحریری دھمکیاں موصول ہوئیں تھیں۔

تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سما اسٹیشن کو دھمکانے کا بیان مسترد کردیا۔

رمیز عظیمی نے بتایا کہ ریڈیو اسٹیشن 4 روز قبل بند کیا گیا ہے اور گزشتہ 4 سال میں تیسری مرتبہ بند ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزنی صوبےکے کئی اضلاع پر طالبان قابض ہیں اور انہوں نے اس لیے دھمکیاں دیں کیونکہ ریڈیو اسٹیشن میں کام کرنے والے 16 ملازمین میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان امن مذاکرات کے ساتویں مرحلے سے قبل طالبان کی میڈیا کو دھمکی

برطانوی خبررساں ادارے ’ رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق نجی ریڈیو اسٹیشن 2013 سے غزنی میں سیاسی، مذہبی، سماجی اور تفریحی پروگرامز نشر کررہا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ طالبان کی جانب سے ان کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ملٹری کمیشن نے خبردار کیا تھا کہ ریڈیو اسٹیشنز، ٹی وی چینلز اور دیگر میڈیا اداروں کے پاس طالبان مخالف بیانات نشریات بند کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ جو ادارے ایسی نشریات جاری رکھیں گے، جو مغرب کی حمایت یافتہ افغان حکومت کی مدد کر رہے ہیں، انہیں حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دفتر کی جانب سے طالبان کی دھمکی کی مذمت کی گئی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ' آزادی اظہار اور میڈیا اداروں پر حملے انسانی اور اسلامی اقدار کی خلاف ورزی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: آل افغان کانفرنس: طالبان کا سرکاری اداروں، عوامی مقامات پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق

یاد رہے کہ 2014 سے افغانستان میں بین الاقوامی میڈیا کی موجودگی میں تیزی سے کمی آئی جس خلا کو مقامی میڈیا نے پُر کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کا کام مشکل ہوتا جارہا ہے۔

2016 میں طالبان کے خودکش بمبار نے افغانستان کے سب سے بڑے نجی چینل طلوع ٹی وی کے ملازمین کو لے جانے والی بس سے گاڑی ٹکرائی تھی جس کے نتیجے میں 7 صحافی ہلاک ہوئے تھے۔

اس حوالے سے طالبان نے کہا تھا کہ انہوں نے ملازمین کو قتل کیا کیونکہ طلوع ٹی وی پروپیگنڈا کی ذریعے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان پر قبضے اور طالبان کے خلاف ان کی جنگ کی حمایت کر رہا تھا۔