نائجیریا: قزاقوں کا بحری جہاز پر حملہ، 10 ترک ملازمین اغوا

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2019

ای میل

بحری جہاز کے عملے کو 13 جولائی کی شام کو یرغمال بنایا گیا— فوٹو: وکی پیڈیا
بحری جہاز کے عملے کو 13 جولائی کی شام کو یرغمال بنایا گیا— فوٹو: وکی پیڈیا

ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق نائیجیریا کی بندرگاہ پر قزاقوں نے مال بردار بحری جہاز میں سوار عملے کے 10 ترک ملازمین کو اغوا کرلیا۔

خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ترک وزرات خارجہ نے بتایا کہ بحری جہاز کے عملے کو 13 جولائی کی شام کو یرغمال بنایا گیا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ قزاقوں کی جانب سے جہاز چھوڑنے کے بعد اسے گھانا کی بندرگاہ ٹیما لے جایا گیا جہاں گھانا اور نائیجیریا کے حکام مغوی عملے کی واپسی کی کوششیں کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: قزاقوں نے تیل سے بھرا بحری جہاز ہائی جیک کرلیا

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی سرکاری خبر ایجنسی اناطولو کے مطابق شپنگ کمپنی کیدیوگلو ڈینیزچلیک کے تحت چلنے والے ترک مال بردار بحری جہاز پک سوئے-ون پر گزشتہ شب حملہ کیا گیا۔

کیدیوگلو ڈینیزچلیک کمپنی کے ملازم نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 18 افراد پر مشتمل بحری جہاز کے عملے میں سے 10 ترک شہریوں کو اغوا کیا گیا۔

انہوں نے دو ملازمین کو رہا کرنے سے متعلق مقامی میڈیا کی رپورٹس کو مسترد کردیا۔

ترک میڈیا میں کمپنی کی جانب سے نشر کیے گئے بیان کے مطابق جب قزاقوں نے حملہ کیا اس وقت بحری جہاز کیمرون سے آئیوری کوسٹ کی جانب رواں دواں تھا اور اس میں کوئی سامان نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بحری قزاقوں نے پاکستانی عملے کو رہا کردیا

بیان میں کہا گیا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملے میں کوئی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا اور ہمارے ملازمین کی باحفاظت رہائی کے لہے کوششیں جاری ہیں۔

ترکی کی حکمراں جماعت کے ترجمان عمر چیلیک نے کہا کہ ترک عملے پر مبنی بحری جہاز کو نائیجریا میں یرغمال بنایا گیا لیکن انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

خیال رہے کہ قزاق عموماً تاوان وصول کرنے کے لیے بحری جہاز کے عملے کو اغوا کرتے ہیں، 2019 کے پہلی سہ ماہی میں نائیجیریا میں بحری قزاقوں نے 14 حملے کیے تھے جبکہ 2018 میں اسی دورانیے میں 22 حملےکیے گئے تھے۔