وہ وجوہات جو انڈوں کو غذا کا لازمی حصہ بنانے پر مجبور کریں

17 جولائ 2019

ای میل

اکثر افراد کو ناشتے میں انڈے کھانا پسند ہوتا ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
اکثر افراد کو ناشتے میں انڈے کھانا پسند ہوتا ہے — شٹر اسٹاک فوٹو

جب بات ناشتے میں انڈے کھانے کی ہو تو ہر ایک کی پسند مختلف ہوسکتی ہے۔

ہارڈ بوائل سے لے کر فرائی اور آملیٹ، غرض متعدد طریقے سے دنیا کے اس مقبول ترین ناشتے سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔

فن لینڈ کی ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق ڈوں میں اگرچہ قدرتی طور پر کولیسٹرول کی مقدار کافی ہوتی ہے مگر ان کا استعمال جان لیوا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ لگ بھگ 40 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انڈے دنیا بھر میں پھیلتی اس وبا کی روک تھام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ذیابیطس سے ہٹ کر بھی ایسی متعدد وجوہات ہیں جو آپ کو انڈے کھانے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہیں۔

مکمل پروٹین فراہم کرے

ایک انڈے میں 9 امینو ایسڈز ہوتے ہیں جو پروٹین کے بلڈنگ بلاگ بنانے میں مدد دیتے ہیں، یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ہمارا جسم خود ایسا کرنے سے قاصر ہے، انڈے کی سفیدی میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار کم ہوتی ہے۔

غذائی اجزا سے بھرپور

انڈوں میں وٹامنز، منرلز، امینو ایسڈز سمیت متعدد غذائی اجزا شامل ہیں جیسے ہائی کوالٹی پروٹین، سلینیم، فاسفورس، کولین، وٹامن بی 12، متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس جو خلیات کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کے لیے مددگار

صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جانے والے کولیسٹرول ایچ ڈی ایل کی سطح ایسے افراد میں زیادہ ریکارڈ کی جاتی ہے جو ایک دن میں 3 یا اس سے زائد انڈے کھاتے ہیں، یقیناً نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح بھی بڑھتی ہے، مگر فائدہ مند کولیسٹرول اسے نقصان پہنچانے سے روکتا ہے۔

ٹرائی گلیسڈرز کی سطح کم کرے

ٹرائی گلیسڈرز کی سطح میں کمی صحت میں بہتری آتی ہے، انڈے کھانے کی عادت مخصوصی فیٹی ایسڈز (جیسے اومیگا تھری) کی سطح بڑھاتی ہے، جس سے ٹرائی گلیسڈر کی سطح کم ہوتی ہے۔

فالج کا خطرہ کم کرے

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق روزانہ ایک انڈا کھانا فالج کا خطرہ کم کرتا ہے، حال ہی میں ایک چینی طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا جو لوگ روزانہ ایک انڈا کھاتے ہیں، ان میں دماغی شریان یا برین ہیمرج کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

کیلوریز کنٹرول کرنے میں مددگار

ایک انڈے میں 70 کیلوریز ہوتی ہیں اور بہت آسانی سے جل بھی جاتی ہیں، جس سے موٹاپے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

سستی غذا

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انڈے عام طور پر بہت زیادہ مہنگے نہیں ہوتے اور 10 سے 20 روپے کے اندر انہیں آسانی سے خریدا جاسکتا ہے۔

دل کے لیے صحت بخش

جو لوگ زیادہ انڈے کھاتے ہیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ نہیں بڑھتا، ایسے افراد میں بھی جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار ہوں، جبکہ انڈوں کو کھانا صحت مند وزن برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک انڈا کھانا امراض قلب کا خطرہ انڈوں سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہوتا ہے۔

پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھے

ناشتہ میں انڈے کو کھانا پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو نوجوان ناشتے میں ایک انڈا کھاتے ہیں، وہ دوپہر کے کھانے میں 130 کیلوریز کم جسم کا حصہ بناتے ہیں۔

بینائی کے لیے مددگار

انڈوں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس آنکھوں کے امراض جیسے موتیا اور عمر بڑھنے سے آنے والی کمزوری سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، ویسے سبز پتوں والی سبزیاں بھی یہ کام کرتی ہیں مگر انڈے زیادہ بہتر ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں موجود چکنائی جسم کے لیے غذائی اجزا کو استعمال کرنا آسان بنادیتی ہے۔

دماغ تیز کرے

انڈوں میں موجود وٹامن ڈی دماغ کے گرے میٹر کے لیے فائدہ مند ہے جبکہ کولین نامی جز اعصاب کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے، یہ جز حاملہ خواتین کے لیے بھی ضروری ہے جو بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔