سوڈان: فوج اور مظاہرین کے درمیان حکومت سازی کے معاہدے پر دستخط

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2019

ای میل

افریقی یونین اور ایتھوپیا کی ثالثی میں معاہدے پر دستخط کیے گئے—فوٹو:اے ایف پی
افریقی یونین اور ایتھوپیا کی ثالثی میں معاہدے پر دستخط کیے گئے—فوٹو:اے ایف پی

سوڈان میں گزشتہ تین ماہ سے فوجی حکمرانوں کے خلاف مسلسل احتجاج کرنے والے مظاہرین اور جرنیلوں نے افریقی یونین اور ایتھوپیا کی ثالثی میں حکومت سازی کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کر لیے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق ملٹری کونسل کے جنرل محمد ہمدان داغالو نے بتایا کہ ‘معاہدہ، سوڈان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے’۔

افریقی یونین کے ثالث محمد الحسین لیبٹ نے معاہدہ طے پانے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ‘ملٹری کونسل اور فریڈم الائنس اینڈ چینج ایک اہم معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں جس میں فیصلہ کن مصالحت کے حوالے سے بنیادی اقدامات ہیں’۔

واضح رہے کہ افریقی یونین اور ایتھوپیا کی ثالثی میں حکومت سازی کے معاہدے پر اصولی اتفاق 5 جولائی کو ہوا تھا۔

مزید پڑھیں:سوڈان: فوج اور مظاہرین کے درمیان تاریخی معاہدہ طے

معاہدے کے تحت نئی حکمران تنظیم تشکیل دی جائے گی جس میں 6 سویلین اور 5 ملٹری کے نمائندے شامل ہوں گے۔

معاہدے کے مطابق سویلین نمائندوں میں 5 رہنما الائنس فار فریڈم اینڈ چینج سے شامل ہوں گے۔

دونوں فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ سوڈان کی نئی حکمران تنظیم کی سربراہی ابتدائی 21 مہینوں تک ایک جنرل کریں گے اور بقیہ 18 ماہ سویلین رہنما سربراہ ہوں گے۔

گورننگ کونسل، سویلین انتظامیہ کی تشکیل کی نگرانی کرے گی جو صرف تین برس تک فعال ہوگی جس کے بعد انتخابات ہوں گے۔

دارالحکومت خرطوم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل محمد ہمدان داغالو کا کہنا تھا کہ ‘اب ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے جس میں مسلح فورسز، ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) اور سوڈانی انقلاب کے رہنماؤں کا اشتراک ہے’۔

جنرل محمد ہمدان داغالو آر ایس ایف کے سربراہ بھی ہیں اور انہوں نے ملٹری کونسل کی جانب سے معاہدے میں نمائندگی کی۔

مظاہرین کے مرکزی رہنما ابراہیم الامین نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘آج ہم نے سیاسی اعلامیے کو مکمل کردیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومتی اشتراک کے حوالے سے تفصیلات ایک سرکاری دستاویز کے طور پر جاری کی جائیں گے اور مذاکرات 19 جولائی کو شروع ہوں گے’۔

یہ بھی پڑھیں:سوڈان: فوجی حکمران کے خلاف مظاہرے، مزید 11 شہری جاں بحق

دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کے لیے فیصلہ کن مذاکرات دریائے نیل کے ساحل پر ایک پرتعیش ہوٹل میں ہوئے جہاں تمام معاملات طے پاگئے۔

سوڈانی جنرلز جب معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد ہوٹل سے باہر آرہے تھے تو خواتین سمیت عوام کے ایک گروپ نے قومی پرچم تھامے ‘سول حکمرانی، سول حکمرانی’ کے نعرے لگائے۔

خرطوم میں جشن

خرطوم میں جامعات کے طلبا سمیت کئی افراد نے معاہدے طے پانے پر جشن منایا۔

‘انقلاب، انقلاب’ کے نعروں کی گونج میں ایک طالب علم ایمان طیفور کا کہنا تھا کہ ‘بحیثیت شہری ہم اس معاہدے پر مطمئن ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہدا کے خون کا بدلہ بھی مل جائے’۔

ایک اور طالب علم احمد عبدالحلیب کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس وقت تک خاموش نہیں رہیں گےجب حکومت مکمل طور پر سویلین کے پاس نہیں آتی’۔

مزید پڑھیں:سوڈانی مظاہرین فوج سے مذاکرات اور احتجاج ختم کرنے پر رضامند

خیال رہے کہ رواں برس 11 اپریل کو سابق صدر عمر البشیر کو معزول کرنے کے بعد حکومت پر قبضہ کرنے والی فوجی کونسل کے خلاف عوام کا احتجاج جاری ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو سول انتظامیہ کے حوالے کر دیا جائے۔

مظاہروں کے دوران کئی افراد مارے گئے اور 3 جون کو مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

حکومت کی تشکیل کے لیے 19 جولائی کو مذاکرات میں جنرلز کو مظاہرین کے خلاف تشدد پر ‘خاص استثنیٰ’ دینے کے لیے حوالے سے بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

مظاہرین کے رہنما احمد الربی نے مذاکرات میں جانے سے پہلے ہی جنرلز کو استثنیٰ دینے کے تاثر کو واضح طور پر مسترد کردیا تھا۔