آج کا دن بھارت کیلئے ایک اور 27 فروری ثابت ہوا، ڈی جی آئی ایس پی آر

17 جولائ 2019

ای میل

قانون کے مطابق کلبھوشن سے متعلق حکومت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے، میجر جنرل آصف غفور — فائل فوٹو / آئی ایس پی آر
قانون کے مطابق کلبھوشن سے متعلق حکومت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے، میجر جنرل آصف غفور — فائل فوٹو / آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ آج کا دن بھارت کے لیے ایک اور 27 فروری ثابت ہوا، عالمی عدالت میں بھارت کے جھوٹے بیانیے کی شکست ہوئی اور اسے کلبھوشن فیصلے کی شکل میں آج بھی بڑا سرپرائز ملا۔

نجی ٹی وی چینل 'اے آر وائی نیوز' سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 'پاکستان کے حق میں فیصلہ ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور کلبھوشن سے متعلق فیصلہ پاکستان کی جیت ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'بھارت کی ملٹری کورٹ کی سزا ختم کرنے کی استدعا مسترد کی گئی، جبکہ کلبھوشن کو رہا کرنے کی بھارتی درخواست بھی مسترد کی گئی۔'

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 'کلبھوشن، بھارت کا حاضر سروس افسر ہے، ہمارا یہ موقف مانا گیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت کا پاکستان میں کیا کردار ہے، بھارت نے ہمیشہ جھوٹا بیانیہ دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن عالمی عدالت کے فیصلے سے بھارتی جھوٹے بیانیے کو شکست ہوئی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'آج کا دن بھارت کے لیے ایک اور 27 فروری ثابت ہوا اور بھارت کو کلبھوشن فیصلے کی شکل میں آج بھی بڑا سرپرائز ملا۔'

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ عالمی عدالت نے نظرثانی کا معاملہ پاکستان پر چھوڑ دیا ہے، قانون کے مطابق کلبھوشن سے متعلق حکومت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے جبکہ آرمی چیف کا کہنا ہے قانون کےمطابق ہی فیصلہ ہوگا۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی تھی۔

کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کا فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبد القوی احمد یوسف نے سنایا۔

جج عبدالقوی احمد یوسف نے کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا۔

عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ منسوخ کرنے اور حوالگی کی بھارتی استدعا بھی مسترد کردی اور حسین مبارک پٹیل کے نام سے کلبھوشن کے دوسرے پاسپورٹ کو بھی اصلی قرار دیا۔

تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن، جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا جبکہ پاکستان نے کنونشن میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا، لہٰذا پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے۔

عالمی عدالت نے پاکستان سے کلبھوشن کی سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی کا بھی مطالبہ کیا۔