رگوں کے اس عام عارضے سے واقف ہیں؟

18 جولائ 2019

ای میل

مردوں کے مقابلے میں خواتین میں یہ زیادہ عام ہوتا ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
مردوں کے مقابلے میں خواتین میں یہ زیادہ عام ہوتا ہے — شٹر اسٹاک فوٹو

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کچھ افراد کے جسموں پر رگیں موٹی اور پھول جاتی ہیں اور جلد کے اندر سے بھی نظر آنے لگتی ہیں۔

اسے ویریکوس وین (Varicose Vein) کہا جاتا ہے جو بہت عام عارضہ ہوتا ہے جس کا شکار مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ ہوتی ہیں۔

جسم کی کوئی بھی رگ اس مسئلے کا شکار ہوسکتی ہے تاہم زیادہ تر ٹانگوں اور پیروں کی رگوں میں یہ مسئلہ زیادہ سامنے آتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر ہمارے جسم میں 2 اقسام کی رگیں ہوتی ہیں، ایک جو سطح یا جلد پر زیادہ نمایاں ہوتی ہیں جبکہ دوسری جو زیادہ گہرائی میں ہوتی ہیں اور عام طور پر سطح پر موجود رگوں میں یہ عارضہ نظر آتا ہے۔

وجوہات

عمر بڑھنے سے رگوں کی لچک کم ہونے لگتی ہے اور کمزور بھی ہوجاتی ہیں، اور کبھی کبھار دل کو واپس خون بھیجنے میں ناکام ہوجاتی ہیں، جس کے نتیجے میں خون رگوں میں جمع ہونے لگتا ہے، جس سے وہ پھیل جاتی ہیں اور نیلی نظر آنے لگتی ہیں کیونکہ اس میں خون کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

دوران حمل بھی اس مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اس عرصے میں ٹانگوں کی جانب دوران خون میں کمی آسکتی ہے یا بچے کی نشوونما کے دوران جسم کا اضافی وزن بھی ٹانگوں کی رگوں پر بوجھ بڑھا دیتا ہے جس سے وہ پھیل جاتی ہیں، دوران حمل ہارمونز میں آنے والی تبدیلی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

اگر رگوں کے والو خون کو واپس دل اور پھیپھڑوں تک پہنچانے میں ناکام ہو، تو اس سے بھی رگیں پھول کر نمایاں ہوجاتی ہیں۔

ناقص طرز زندگی سے بھی یہ مسئلہ ہوتا ہے خصوصاً زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا، ورزش سے دوری اور موٹاپے سے رگوں کا یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

علامات

اس کی سب سے زیادہ نمایاں نیلی یا گہرے جامنی رنگ کی رگیں جلد پر نمودار ہوجانا ہے، جو بل کھائی ہوئی اور بہت زیادہ موٹی ہوسکتی ہیں، عام طور پر یہ تکلیف دہ عارضہ نہیں ہوتا، مگر کبھی کبھار تکلیف کا احساس بھی ہوتا ہے خصوصاً ٹانگوں میں درد یا بھاری پن کا احساس ہوسکتا ہے۔

علاج

یہ مرض تکلیف دہ یا جان لیوا نہیں ہوتا، مگر اس کے ساتھ زندگی گزارنا ضرور غیراطمینان بخش ہوسکتا ہے، اور ہاں اس کا علاج کسی گھریلو ٹوٹکے یا مالش سے نہیں ہوسکتا بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑتا ہے، اور جتنا جلد علاج کروائین گے، اتنا ہی بہتر ہوگا، کیونکہ ابتدا میں اس مرض کے قدرتی پھیلاﺅ کو روکنا بہت آسان ہوتا ہے اور زیادہ بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔