خادم رضوی کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج، ملزم کو نوٹس جاری

18 جولائ 2019

ای میل

لاہور ہائی کورٹ نے خادم حسین رضوی کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ — فائل فوٹو: اے پی
لاہور ہائی کورٹ نے خادم حسین رضوی کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ — فائل فوٹو: اے پی

لاہور: سپریم کورٹ میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کی ضمانت منسوخی کے لیے دائر حکومتی اپیل سماعت کے منظور کرتے ہوئے ملزم کو نوٹس جاری کردیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس منظور ملک کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ٹی ایل پی سربراہ کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور احتجاجی مظاہروں میں سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کیس میں ضمانت منسوخی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران جسٹس منظور ملک نے استفسار کیا کہ خادم حسین رضوی کا مرکز جرم کیا ہے جس پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل مظہر شیر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ٹی ایل پی سربراہ نے عدلیہ مخالف تقاریر کیں اور عوام کے جذبات کو مشتعل کیا جس پر ان کے خلاف 31 اکتوبر 2018 کو مقدمہ دائر کیا گیا۔

مزید پڑھیں: خادم حسین رضوی کے جوڈیشل ریمانڈ میں ایک مرتبہ پھر توسیع

جسٹس منظور ملک نے ریمارکس دیے کہ یہ تو اس کیس کے حقائق ہیں تاہم یہاں قانون کی بات کرتے ہوئے خادم حسین رضوی کا جرم بتایا جائے۔

جسٹس منظور ملک نے استفسار کیا کہ خادم حسین رضوی کو ضمانت پر رہائی دینے کے ہائیکورٹ کے فیصلے میں کیا غلطی ہے؟

عدالت کی درست معاونت نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل مظہر شیر اعوان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیس کے میرٹس کا نہیں پتا، اس کیس کو کس نے ڈرافٹ کیا؟

یہ بھی پڑھیں: خادم حسین رضوی سمیت ٹی ایل پی کے دیگر رہنماؤں کی درخواست ضمانت مسترد

عدالت نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کتنے لوگوں کی ضمانت منسوخ کروانا چاہتے ہیں جس پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ انہوں نے 2 ملزمان خادم حسین رضوی اور عطا محمد کی ضمانت منسوخی کی اپیل دائر کی ہے۔

عدالت نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے کی فائل پڑھی بھی ہے یا نہیں، عطا محمد تو اس کیس کا شکایت کنندہ ہیں اور آپ انہیں ملزم کہہ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر خادم حسین رضوی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں: خادم حسین رضوی 30 روز کے لیے نظر بند، سیکڑوں کارکنان گرفتار

خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کا خادم حسین رضوی کو ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

حکومتی اپیل میں موقف اپنایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، مولانا خادم حسین رضوی کے خلاف تمام ریکارڈ موجود ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔