پاکستان، ایران کا سرحدی میکانزم کیلئے باہمی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2019

ای میل

اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان ایران ہائر بارڈر کمیشن کے فریقین نے سرحد پر باڑ کی تنصیب کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ — فائل فوٹو/سحر بلوچ
اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان ایران ہائر بارڈر کمیشن کے فریقین نے سرحد پر باڑ کی تنصیب کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ — فائل فوٹو/سحر بلوچ

پاکستان اور ایران نے نئے بارڈر کراسنگ پوائنٹس (سرحد پار کرنے کے مقامات) کھولنے میں تیزی لانے سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بارڈر میکانزم کے حوالے سے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اتفاق اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان ایران ہائر بارڈر کمیشن(ایچ بی سی) کے دوسرے سیشن کے دوران کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’پاک ایران سرحد پر غیرقانونی تجارت ختم کرنے کیلئے بینکنگ سہولیات ناگزیر‘

اس موقع پر پاکستانی وفد کی نمائندگی دفتر خاجہ میں ڈی جی (افغانستان، ایران اور ترکی) زاہد حفیظ چوہدری جبکہ ایرانی وفد کی نمائندگی وزارت خارجہ ایران کے بین الاقوامی قانونی امور کے ڈائریکٹر جنرل عباس اردیکانی نے نے کی۔

سیشن کے دوران فریقین نے متعلقہ فریم ورک کے اندر موجودہ بارڈر میکانزم پر موثر عملدرآمد کے لیے بحث کی اور دونوں ممالک نے ان شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

اجلاس میں دونوں ملکوں نے باہمی افہام و تفہیم سے نئے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھولنے میں تیزی لانے سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کیا اور سرحدی نقشوں کو جدید کرنے اور مشترکہ بارڈر سروے کرنے سمیت فریقین نے موثر بارڈر منیجمنٹ کی کوششوں کے سلسلے میں باڑ کی تنصیب جیسے مناسب اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا لاپتہ ایرانی محافظوں کو ڈھونڈنے میں مدد کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ اس سے قبل اس طرح کے سیشن کا انعقاد جولائی 2017 میں کیا گیا تھا۔

اگر دونوں ممالک کی بات کی جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے جہاں جرائم پیشہ گروہ، دہشت گردوں اور منشیات کے اسمگلروں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ماضی میں چند گروہوں کی جانب سے سرحد پار حملوں کے نتیجے میں ایرانی سرحدی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک بھی ہوئے تھے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں سرحدی سیکیورٹی بڑی رکاوٹ بنی رہی، تاہم ان دونوں پڑوسی ممالک نے سرحدی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔