آئی ایم ایف کو سی پیک سے متعلق کوئی دستاویز نہیں دی، وزارت منصوبہ بندی

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2019

ای میل

سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن شیری رحمٰن کی صدارت میں ہوا—فائل فوٹو: اے پی پی
سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن شیری رحمٰن کی صدارت میں ہوا—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے پاک چین اقتصادی راہداری کو بتایا گیا ہے کہ وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات اور وزارت خزانہ نے سی پیک اور ادائیگیوں کے توازن میں مالی معاملات اور خسارے سے متعلق کوئی دستاویز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے شیئر نہیں کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی چیئرپرسن پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف انتظامیہ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ کچھ معلومات ان کے ساتھ شیئر کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی دیگر معلومات سے متضاد تھی۔

مزید پڑھیں: ’آئی ایم ایف قرض سے پاک چین اقتصادی تعاون متاثر نہیں ہونا چاہیے‘

تاہم وزیر منصوبہ بندی اور ترقی خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ وزارت کا تحریری جواب کمیٹی کو جمع کروایا گیا اور یہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے جس میں آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی دستاویز شیئر کرنے کی تردید کی گئی ہے۔

قبل ازیں کمیٹی اراکین نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (این اے وی ٹی ٹی سی) کی جانب سے سی پیک منصوبوں کے تحت تربیتی پروگرامز، اقدامات اور مزدور کی تعمیری صلاحیت پر غیرتسلی بخش بریفنگ دینے سے ناخوش تھے۔

تاہم این اے وی ٹی ٹی سی کی جانب سے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ڈویژن کی سطح پر افرادی قوت کی ضرورت کو ختم اور تکنیکی تربیتی مواقع سے جمعہ کو کمیٹی کو بتایا جائے گا۔

اراکین کی عمومی رائے یہ تھی کہ سی پیک منصوبوں پر کام اس رفتار سے نہیں ہورہا جو اس کی دن کی ضرورت ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کی چیئرپرسن نے یہ مشاہدہ کیا کہ گوادر ماسٹر پلان اب ایک تنازعات کی وجہ بن گیا ہے، جو ابھی تک کنسلٹںٹ کی ابتدائی رپورٹ کی تشخیص کے مرحلے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’آئی ایم ایف کے پاس جانا تباہ کن ہوگا‘

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ کمیٹی چاہتی ہے کہ وہ حکومت کی حمایت کرے لیکن وہ چاہتی ہے کہ حکومت کام پر کچھ ٹائم لائن دے۔

اس پر وزیر خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ سی پیک پر پیش رفت میں تاخیر کا تصور ترجیحات کی غلطی کی وجہ سے تھا، تاہم اس حکومت نے اس سلسلے میں کئی منصوبوں کو دوبارہ جوڑا ہے۔

وفاقی وزیر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گوادر ماسٹر پلان پر پیش رفت جلد عوام کے سامنے لائی جائے گی اور قومی امکان ہے کہ یہ اگست کے آخر تک آجائے۔