ملک میں 30 ہزار رجسٹرڈ مدارس میں سائنس، انگریزی بھی پڑھانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2019

ای میل

کسی بھی مذہب اور عقائد کے خلاف نفرت آمیز تقریر کی گنجائش نہیں ہوگی، شفقت محمود
—فائل فوٹو: اے ایف پی
کسی بھی مذہب اور عقائد کے خلاف نفرت آمیز تقریر کی گنجائش نہیں ہوگی، شفقت محمود —فائل فوٹو: اے ایف پی

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے حکومت ملک میں قائم 30 ہزار مدارس کو رجسٹرڈ کرے گی جہاں انگریزی، حساب اور سائنس بھی نصاب کا حصہ ہوں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق شفقت محمود نے کہا کہ حکومت مدارس میں زیر تعلیم بچوں کے امتحانات منعقد کرے گی اور پہلا بیچ اگلے جون تک متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: علما نے منظور شدہ خطبات، بیک وقت اذان کی مخالفت کردی

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں قائم مدارس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہاں نفرت کو ہوا دی جاتی اور یہ ’دہشت گردوں کی نرسری‘ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی مذہب اور عقائد کے خلاف نفرت آمیز تقریر کی گنجائش نہیں ہوگی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نصاب کا جائزہ لیں گے کہ اس میں کسی مذہب اور عقائد کے خلاف نفرت آمیز مواد تو موجود نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک میں جمعہ کے خطبات کی نگرانی کا فیصلہ

خیال رہے کہ اپریل میں مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت لانے کے معاملے کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں رجسٹرڈ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت لایا جائے گے۔

مذکورہ پیش رفت سے واقف ذرائع نے بتایا تھا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے ملک بھر کے مدارس کی جیو ٹیگنگ اور رجسٹریشن رپورٹ مرتب کرلی ہے، جو صوبوں کو فراہم کردی جائے گی۔

نیکٹا رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع تمام مدارس کی جیوٹیگنگ مکمل کرلی گئی ہے جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے فاٹا کے 85 فیصد، سندھ کے 80 فیصد، خیبرپختونخوا کے 75 فیصد اور بلوچستان کے 60 فیصد مدارس کی جیو ٹیگنگ کی جاسکی ہے۔

مزیدپڑھیں: مدارس کو قومی دھارے میں لانا اولین ترجیح ہے، وزیر اعظم

علاوہ ازیں 9 جولائی کو پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرکے وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے اور مزید اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔

شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے صحافیوں نے مدارس کو وزارت زراعت سے تعلیم کے ماتحت کرنے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مدارس کے طلبا کا بھی حق ہے کہ ان کو درس نظامی کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں پر تعلیم دی جائے۔