قبائلی اضلاع میں انتخابات، آزاد امیدواروں کو 7 نشستوں پر برتری

ای میل

پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بلاتعطل شام 5 بجے تک جاری رہی — فوٹو: سراج الدین
پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بلاتعطل شام 5 بجے تک جاری رہی — فوٹو: سراج الدین
16 نشستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں، سابق اراکین اسمبلی اور آزاد امیدواروں کے مابین دلچسپ مقابلے کی توقع کی جارہی تھی۔ —تصویر:ڈان نیوز ٹی وی
16 نشستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں، سابق اراکین اسمبلی اور آزاد امیدواروں کے مابین دلچسپ مقابلے کی توقع کی جارہی تھی۔ —تصویر:ڈان نیوز ٹی وی

خیبر پختونخوا میں گزشتہ برس ضم ہونے والے سات قبائلی اضلاع کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات کے نتائج میں آزاد امیدواروں کو 7 حلقوں میں برتری حاصل ہے۔

پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق 7 نشستوں پر آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار 4 نشستوں پر آگے ہیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے امیدوار 2، 2 جبکہ ایک نشست پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیدوار کو برتری حاصل ہے۔

پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بلاتعطل شام 5 بجے تک جاری رہی۔

قبائلی اضلاع کی عوام میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے خاصہ جوش و خروش دیکھا گیا، اس موقع پر سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشن میں موجود ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ مزید کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

خیبر پختوخوا اسمبلی کی 16 عام نشستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں، سابق اراکین اسمبلی اور آزاد امیدواروں کے مابین دلچسپ مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قبائلی اضلاع کی تاریخ کے پہلے صوبائی انتخابات

آج ہونے والے ان انتخابات میں 28 لاکھ ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا جس میں مردوں کی تعداد 16 لاکھ 70 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 30 ہزار ہے۔

پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ووٹ دینے کے لیے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بھی زیادہ دیکھا گیا۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ دور افتادہ علاقے ہونے اور ٹیکنالوجی کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے نتائج میں تاخیر ہورہی ہے۔

قبل ازیں مہمند میں پی کے 103 کے جی جی ایم ایس گلاب جان پولنگ اسٹیشن پر 2 سیاسی جماعتوں کے حمایتوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے کے باوجود مذکورہ پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کا عمل جاری رہا، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کوششیں جاری ہیں۔

بعد ازاں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سیکریٹریٹ میں قائم کنٹرول روم کا دورہ کیا اور پولنگ کے دوران شکایات سے متعلق دریافت کیا۔

حکام نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ قبائلی اضلاع میں پولنگ کے دوران 4 شکایات موصول ہوئیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے قبائلی اضلاع میں پرامن انتخابات کے انعقاد پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پرامن انتخابات کا انعقاد کروا کر پوری دنیا میں ثابت کر دیا کہ قبائلی عوام جمہوری سوچ کی پرامن قوم ہے، جبکہ انتخابات کے پرامن انعقاد پر انتخابی عملے، سیکورٹی عملے اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

پولنگ اسٹیشنز

قبائی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے ان انتخابات کے لیے ایک ہزار 896 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جن میں 4 سو 82 مردوں کے جبکہ 3 سو 76 پولنگ اسٹیشنز خواتین کے تھے جبکہ ایک ہزار 39 پولنگ اسٹیشنز مشترکہ تھے۔

ان پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 سو 54 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جبکہ 4 سو 61 کو حساس قرار دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابات کے سلسلے میں ایک ہزار 897 پریزائڈنگ افسر، 5 ہزار 6 سو 53 نائب پریزائڈنگ افسر اور 5 ہزار 6 سو 53 پولنگ افسر تعینات کیے تھے جس کے انتظامات جمعے کے روز مکمل کر لیے گئے تھے۔

انتخابی امیدوار

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے تمام نشتسوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے جبکہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 15، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 14 اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 13 نشتسوں سے انتخابات میں حصہ لیا۔

اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 5 امیدوار، جماعت اسلامی نے 13 اور قومی وطن پارٹی نے 3 نشستوں پر انتخاب میں حصہ لیا جبکہ 20 جولائی کو ہونے والی ووٹنگ کے لیے 2 سو 2 آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

خیال رہے کہ 16 عام نشستوں پر مجموعی طور پر 2 سو 85 امیدواروں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا جن میں 2 خواتین امیدوار بھی شامل تھیں جن میں سے ایک کا تعلق اے این پی جبکہ دوسری خاتون کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔

مزید پڑھیں: قبائلی اضلاع میں انتخابات: پولنگ اسٹیشنوں میں فوج تعینات ہوگی

ان 16 عام نشستوں کے علاوہ خواتین اور اقلیتوں کے مختص 5 نشستیں عام نشستوں میں کامیابی کے تناسب کے اعتبار سے دی جائیں گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انتخابات کے پیشِ نظر فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ 34 ہزار 497 سیکیورٹی اہلکاروں کو تمام اضلاع میں تعینات کیا گیا جس میں پاک فوج، پولیس، فرنٹیئر کور، لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکار شامل ہیں۔

قبائلی عوام الیکشن سے پر امید

اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے والے قبائلی عوام نے ان اضلاع میں ہونے والے الیکشن کو اپنے لیے 'تاریخی دن' قرار دیا۔

اجمل مہمند نامی ایک شخص نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ ہمارے منتخب کردہ نمائندے صوبائی اسمبلی میں ہمارے مسائل کو اجاگر کریں گے۔

ایک 90 سالہ شہری حسرت گل صحت خراب ہونے کے باوجود اپنی وہیل چیئر پر ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پر پہنچے اور اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔