دفتر خارجہ نے قندھار حملے سے متعلق افغان ایجنسی کا دعویٰ مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2019

ای میل

پاکستان حالیہ دہشت گردی کے واقعے سے متعلق بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان حالیہ دہشت گردی کے واقعے سے متعلق بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے قندھار حملے کا منصوبہ پاکستان بنائے جانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان مسائل حل کرنے کی کوششوں کے برعکس قرار دے دیا۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے افغان انٹیلی جنس سروس نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کی جانب سے لگائے گئے الزام کے بعد ٹوئٹ میں کہا کہ ’ پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعے سے متعلق بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے‘۔

واضح رہے کہ این ڈی ایس کی جانب سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قندھار پولیس ہیڈکوارٹرز پر حملے کا منصوبہ بلوچستان کے شہر چمن میں بنایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: افغانستان: طالبان کے حملے میں 21 افغان کمانڈوز ہلاک

قندھار میں فائرنگ کے بعد ہونے والے اس دھماکے میں 9 شہریوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی تھی۔

افغان میڈیا کے مطابق این ڈی ایس کی جانب سے حملہ آوروں اور منصوبہ سازوں کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو بھی جاری کی گئی تھی۔

تاہم ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’عوامی الزامات کا کھیل دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان متعلقہ ایجنسیوں کے قریبی تعاون اور مسائل حل کرنے کی کوششوں کے برعکس ہے‘۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان افغانستان میں تمام دہشت گرد کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے اور امید کرتا ہے دونوں ممالک افغانستان اور خطے میں پائیدار امن کے لیے تعمیری کام جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان یونیورسٹی کے قریب دھماکا، 6 افراد ہلاک، 27 زخمی

خیال رہے کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے افغان تنازع کے پرامن حل میں تعاون کے لیے پاکستان کی کوششوں کو واضح طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔

افغان امن پر امریکا، چین اور روس کی مشاروت کے بعد اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں تینوں ممالک نے ’پاکستان کے تعاون کا خیرمقدم کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان افغانستان میں امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے‘۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 22 جولائی کو ملاقات شیڈول ہے، اگرچہ اس ملاقات کے ایجنڈے میں دوطرفہ معاملات شامل ہیں لیکن افغان تنازع کے حل کے لیے بات چیت کا بھی امکان ہے۔