یو اے ای کا کراچی میں ایشیا کا سب سے بڑا ویزا سینٹر کھولنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2019

ای میل

اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسی قسم کا مرکز اسلام آباد میں بھی کام کا آغاز کردے گا — تصویر : شٹر اسٹاک
اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسی قسم کا مرکز اسلام آباد میں بھی کام کا آغاز کردے گا — تصویر : شٹر اسٹاک

کراچی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سفیر حماد عبید الزابی نے کہا ہے کہ وہ ستمبر میں کراچی میں ویزا سینٹر کھول رہے ہیں جو ایشیا میں اس قسم کی سب سے بڑی سہولت ہوگی۔

کراچی کے ایوانِ صنعت و تجارت کے دورے کےموقع پر یو اے ای کے سفیر نے بتایا کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسی قسم کا مرکز اسلام آباد میں بھی کام کا آغاز کردے گا۔

ایوانِ صنعت و تجارت کے دورے کے بعد حماد عبید الزابی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر چیز میسر ہوگی، جس میں میڈیکل انشورنس، طبی معائنے اور کانٹریکٹس وغیرہ شامل ہیں جبکہ کراچی کے خیابانِ شمشیر میں اس ویزا سینٹر کے لیے پوری ٹیم یو اے ای سے آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں کے لیے متحدہ عرب امارات کا 'ویزا مفت'

ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر جنید اسمٰعیل مکدہ، سینئر نائب صدر خرم شہزاد، نائب صدر آصف شیخ جاوید، سابق صدر سراج قاسم تیلی سمیت مینیجنگ کمیٹی کے اراکین پر مشتمل اجلاس میں یو اے ای حکام نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر اراکین تاجر برادری کی جانب سے پرجوش میزبانی پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے یو اے ای کے سفیر نے کہا انہوں نے پاکستان کے کئی شہروں کا دورہ کیا ہے جس میں لاہور، سیالکوٹ، پشاور، جنوبی وزیرستان، فیصل آباد اور کوئٹہ شامل ہیں، تاہم کراچی ملک کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے جہاں اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں کے مقابلے میں سماجی زندگی، موحول، ثقافت اور لوگ بہت مختلف ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تعاون کی ایسی نئی سمت تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں جہاں ہم مل کر کام کریں اس کے ساتھ ایسی مشکلات کا بھی جائزہ لیں گے تا کہ انہیں یو اے ای حکام کے سامنے اٹھایا جائے۔

مزید پڑھیں: یو اے ای میں غیرقانونی طور پرمقیم افراد کیلئے ایمنسٹی اسکیم متعارف

بیان میں سفیر کا مزید کہنا تھا کہ انشا اللہ ہم مستقبل میں آگے بڑھنے کے لیے ہاتھ سے ہاتھ ملائیں گے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں اب 5 سال کی مدت کے لیے سلور انویسٹمنٹ ویزا اور 10 سال کی مدت کے لیے گولڈن انسوسٹمنٹ ویزا فراہم کررہی ہیں۔

مذکورہ ویزے مخصوص معیار اور کمپنی کے حجم اور سرمایہ کاری کی مالیت کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے۔


یہ خبر 20 جولائی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔