اپوزیشن کی ریکوزیشن کے بعد سینیٹ اجلاس 23 جولائی کو طلب

اپ ڈیٹ 20 جولائ 2019

ای میل

ایوان بالا کے اس اجلاس کا ایجںڈا نہیں بتایا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی پی
ایوان بالا کے اس اجلاس کا ایجںڈا نہیں بتایا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایوان بالا کا اجلاس طلب کرلیا۔

اپوزیشن کی جانب سے اجلاس کے لیے جمع کروائی گئی ریکوزیشن کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اجلاس منگل 23 جولائی کو سہ پہر 3 بجے طلب کیا۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں سینیٹ اجلاس کا کوئی ایجنڈا نہیں بتایا گیا۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد جمع کروادی

واضح رہے کہ ایوان بالا میں اپوزیشن سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد جبکہ اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کروائی تھی۔

تاہم اپوزیشن کی اس ریکوزیشن پر چیئرمین سینیٹ نے اعتراض لگاتے ہوئے ایک خط لکھ دیا تھا، جس کا جواب اپوزیشن نے جمع کروایا تھا۔

ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر انہیں 60 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کے خلاف جبکہ حکومتی اراکین نے 12 جولائی کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مشترکہ طور پر نیشنل پارٹی (این پی) کے سربراہ حاصل بزنجو کو نیا چیئرمین سینیٹ نامزد کیا تھا۔

ایک جانب جہاں حزب اختلاف کی جماعتیں واضح برتری کے سبب چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے پراعتماد ہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف اس تحریک کو ناکام بنانے کا عزم رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ووٹوں کی اکثریت درکار ہے، اس وقت پی پی پی، مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام (جے یو آئی ف) کے 46 ارکان ہیں جبکہ 29 آزاد امیدوار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سینیٹ کو ہٹا کر بتائیں گے اپوزیشن ساتھ ہے، آصف زرداری

اس کے علاوہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے 2 اراکین ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور پی ایم ایل فنکشنل کا ایک، ایک رکن ہے۔

تاہم حکمران جماعت پی ٹی آئی کے 14 اراکین، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 5 اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے 2 سینیٹرز ہیں۔

خیال رہے کہ موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی نے گزشتہ برس 12 مارچ کو پی پی پی اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے 57 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے۔