خیبر پختونخوا میں گزشتہ برس ضم ہونے والے 7 قبائلی اضلاع کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے پولنگ میں مرد و خواتین نے بھرپور جوش و جذبے کا اظہار کیا۔

پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بلاتعطل شام 5 بجے تک جاری رہی اور اس دوران سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی 16 عام نشستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں، سابق اراکین اسمبلی اور آزاد امیدواروں کے مابین دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا۔

پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ووٹ دینے کے لیے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بھی زیادہ دیکھا گیا۔

انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 28 لاکھ ہے جس میں مردوں کی تعداد 16 لاکھ 70 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 30 ہزار ہے۔

قبائی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے ان انتخابات کے لیے ایک ہزار 896 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جن میں 4 سو 82 مردوں کے جبکہ 3 سو 76 پولنگ اسٹیشنز خواتین کے تھے جبکہ ایک ہزار 39 پولنگ اسٹیشنز مشترکہ تھے۔

اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے والے قبائلی عوام نے ان اضلاع میں ہونے والے الیکشن کو اپنے لیے 'تاریخی دن' قرار دیا۔

رجسٹرڈ مرد ووٹرز کی تعداد 16 لاکھ 70 ہزار تھی—فوٹو: اے پی
رجسٹرڈ مرد ووٹرز کی تعداد 16 لاکھ 70 ہزار تھی—فوٹو: اے پی
ضلع خیبر کے پولنگ اسٹیشن میں ایک بزرگ شہری اپنا ووٹ کاسٹ کررہے ہیں—فوٹو: اے پی
ضلع خیبر کے پولنگ اسٹیشن میں ایک بزرگ شہری اپنا ووٹ کاسٹ کررہے ہیں—فوٹو: اے پی
قبائلی اضلاع میں پولنگ کے دوران 4 شکایات موصول ہوئیں—فوٹو: اے پی
قبائلی اضلاع میں پولنگ کے دوران 4 شکایات موصول ہوئیں—فوٹو: اے پی
پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ووٹ دینے کے لیے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بھی زیادہ دیکھا گیا—فوٹو: اے پی
پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ووٹ دینے کے لیے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بھی زیادہ دیکھا گیا—فوٹو: اے پی
جمرود کے پولنگ اسٹیشن پر ایف سی اہلکار مستعد کھڑا ہے—فوٹو: اے پی
جمرود کے پولنگ اسٹیشن پر ایف سی اہلکار مستعد کھڑا ہے—فوٹو: اے پی
16 عام نشستوں پر مجموعی طور پر 2 سو 85 امیدواروں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا—فوٹو: اے پی
16 عام نشستوں پر مجموعی طور پر 2 سو 85 امیدواروں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا—فوٹو: اے پی
انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے—فوٹو: اے پی
انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے—فوٹو: اے پی
انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 28 لاکھ تھی جس میں سے خواتین ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 30 ہزار تھی 
— فوٹو: اے پی
انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 28 لاکھ تھی جس میں سے خواتین ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 30 ہزار تھی — فوٹو: اے پی
اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے والے قبائلی عوام نے ان اضلاع میں ہونے والے الیکشن کو اپنے لیے 'تاریخی دن' قرار دیا—فوٹو: بشکریہ:پی ٹی آئی ٹوئٹر اکاؤنٹ
اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے والے قبائلی عوام نے ان اضلاع میں ہونے والے الیکشن کو اپنے لیے 'تاریخی دن' قرار دیا—فوٹو: بشکریہ:پی ٹی آئی ٹوئٹر اکاؤنٹ
قبائلی نوجوانوں نے بھی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا—فوٹو: بشکریہ:پی ٹی آئی ٹوئٹر اکاؤنٹ
قبائلی نوجوانوں نے بھی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا—فوٹو: بشکریہ:پی ٹی آئی ٹوئٹر اکاؤنٹ

ای میل

ویڈیوز

'وفاق سندھ حکومت پر نکتہ چینی کے بجائے اپنا کام کرے'
وادی کاغان میں پہلے یوتھ ہاسٹل کا افتتاح
بھارت کی طرف سے آنے والے پانی کے باعث سیلاب کا خطرہ
بھارتی فوج کے کرنل کو سچ بولنا مہنگا پڑگیا

تصاویر

پاکستان میں ’یوم سیاہ‘ پر بھارت مخالف مظاہرے
ملک بھر میں جشن آزادی کے رنگ
ننھے پاکستانیوں نے ملک کا 73واں یوم آزادی کیسے منایا؟
یوم آزادی پاکستان، کشمیر بنے گا پاکستان

تبصرے (0) بند ہیں