رحیم یار خان: وزیر اعظم کے خلاف تقریر، مدرسے کے سربراہ پر مقدمہ درج

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2019

ای میل

ایف آئی آر کے مطابق جے یو آئی ف کے مقامی رہنما نے اپنی تقریر میں عمران خان کی مذہبی شناخت پر سوالات اٹھائے تھے۔ — فائل فوٹو/رائٹرز
ایف آئی آر کے مطابق جے یو آئی ف کے مقامی رہنما نے اپنی تقریر میں عمران خان کی مذہبی شناخت پر سوالات اٹھائے تھے۔ — فائل فوٹو/رائٹرز

رحیم یار خان پولیس نے جمعے کے خطبے سے قبل وزیر اعظم عمران خان، ان کی کابینہ اور ریاستی اداروں بالخصوص محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے خلاف تقریر کرنے پر مدرسے کے سربراہ اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما پر مقدمہ درج کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن، خان پور میں قائم مخزن العلوم مدرسے کی انتظامہ کے خلاف پنجاب پبلک آرڈر آرڈننس 1960، اور پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 6 کے تحت ایف آئی آر نمبر 693/19 درج کی گئی۔

مزید پڑھیں: حکومت کی مدرسہ تعمیر کرنے کی یقین دہانی، لال مسجد آپریشن کیس نمٹا دیا گیا

ایف آئی آر کے مطابق جمعیت علما اسلام (ف) کے مقامی رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تقریر کرتے ہوئے ان کی مذہبی شناخت پر سوالات اٹھائے تھے۔

انہوں نے سی ٹی ڈی پر مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

ضلعی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مدرسے کے سربراہ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔