کراچی: چائلڈ پورنوگرافی کے الزام میں ایک شخص گرفتار، قابل اعتراض ویڈیوز برآمد

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2019

ای میل

ملزم نے دیگر لڑکیوں سمیت ایک غیر ملکی کینیڈین عورت کو بھی نشانہ بنایا، سائبر کرائم
—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ملزم نے دیگر لڑکیوں سمیت ایک غیر ملکی کینیڈین عورت کو بھی نشانہ بنایا، سائبر کرائم —فائل فوٹو: ڈان نیوز

کراچی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبرکرائم نے کم عمر لڑکیوں کو بلیک میل کرنے اور ان کی قابل اعتراض ویڈیوز بنانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم فیض اللہ کوریجو نے بتایا کہ 12 سالہ متاثرہ لڑکی کی والدہ کی شکایت پر کارروائی عمل میں لائی گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کو سائبر کرائم کے 15 نئے شکایتی مراکز قائم کرنے کی اجازت

انہوں نے بتایا کہ چھٹی جماعت کی متاثرہ لڑکی کی ماں نے تحریری شکایت جمع کرائی تھی کہ ڈیفنس فیز 5 کا رہائشی محمد نبراز ولد ظہیر محمود ان کی بیٹی کو جنسی طور پر ہراساں کررہا ہے۔

علاوہ ازیں بتایا گیا کہ ملزم نے دیگر لڑکیوں سمیت ایک غیر ملکی کینیڈین عورت کو بھی نشانہ بنایا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ملزم اپنے ایک ایزی پیسہ کرنے والے دوست سے لڑکیوں کے نمبر لیتا اور پھر واٹس ایپ پر ان کو بلیک میل کر کے کسی جگہ بلا کر ان کی قابل اعتراض ویڈیو بناتا تھا۔

انوسٹی گیشن افسر ایس آئی اکبر خان نے بتایا کہ زیر حراست ملزم کم عمر متاثرہ لڑکی کو ویڈیو کالز کے ذریعے جنسی ہراساں کرتا تھا۔

مزید پڑھیں: بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر ایف آئی اے سائبر کرائم سینٹرز کی تعداد میں اضافہ

اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم محمد نبراز نے قابل اعتراض ویڈیوز کے ذریعے متاثرہ لڑکی کو بلیک میل کیا اور رات گزارنے کی غرض سے اس کے گھر پہنچا۔

ایس آئی اکبر خان کا کہنا تھا کہ جب ملزم رات کو لڑکی کے گھر پہنچا تو سائبر کرائم یونٹ نے اسے گرفتار کرکے اس کا موبائل اپنے قبضے میں کرلیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے موبائل فون میں متعدد دیگر لڑکیوں کی انتہائی قابل اعتراض ویڈیوز موجود تھی جنہیں ون ڈرائیو اور گوگل ڈرائیو میں محفوظ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: سائبر کرائم کے مجرم کو 8 سال قید کی سزا

سائبر کرائم نے ملزم کے خلاف پی ای سی اے 2016 کے تحت چائلد پورنوگرافی کا مقدمہ درج کرکے 3 روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا۔

واضح رہے کہ چائلڈ پورنوگرافی کے مقدمے میں 7 سال قید، 50 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ صلح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔