شادی سے انکار پر پاکستانی لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش، دو چینی گرفتار

21 جولائ 2019

ای میل

چینی باشندوں  کے خلاف دست درازی اور ٹیلی گراف ایکٹ کا مقدمہ درج کرلیاگیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
چینی باشندوں کے خلاف دست درازی اور ٹیلی گراف ایکٹ کا مقدمہ درج کرلیاگیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

راولپنڈی میں پولیس نے مبینہ طور پر شادی سے انکار پر پاکستانی لڑکی کو اغوا کرنے کے الزام میں دو چینی باشندوں کے خلاف ٹیلی گراف ایکٹ کا مقدمہ درج کرلیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا متاثرہ لڑکی نے از خود صدر پولیس اسٹیشن میں چینی باشندوں شوموا اور حوض کے خلاف بیان حلفی جمع کرایا۔

یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاالدین: چینی باشندوں سے شادی کرنے والی 2 بہنوں کے لاپتہ ہونے کا انکشاف

ڈان کو موصول ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ چینی باشندہ ’حوص‘ اکثر شادی کے لیے ورغلاتا تھا۔

لڑکی نے بتایا کہ ’حوص نے مجھے چکری روڈ بلایا اور میں اپنے دو دوستوں کاشف اور شارک وسیم کے ہمراہ مطلوبہ جگہ پر پہنچی‘۔

صدر تھانے میں درج مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق دونوں چینی باشندے کار پر آئے اور متاثرہ لڑکی کی کو بے ہودہ گالیاں دیں اور مارنے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر کے مطابق ’متاثرہ لڑکی کے ہمراہ کاشف اور شارک نے متاثرہ لڑکی کو دونوں چینی باشندوں سے بچایا اور اس دوران لوگوں کی بڑی تعداد بھی جمع ہوگئی‘۔

مزیدپڑھیں: جعلی شادیاں: 5 چینی باشندوں سمیت 12 افراد کی درخواست ضمانت مسترد

بعدازاں دونوں چینی باشندے اپنی گاڑی میں فرار ہوگئے۔

اطلاع دہندہ نے ایف آئی آر میں کہا کہ’شوخو اور حوص اپنے ساتھ شادی زبردستی شادی کرنےکے لیے ٹیلی فون پر دھمکیاں اور میسج کرتے تھے‘۔

متاثرہ لڑکی کی درخواست پر چینی باشندوں کے خلاف دست درازی اور ٹیلی گراف ایکٹ کا مقدمہ درج کرلیا گیا

مقدمے سے متعلق حالیہ پیش رفت کے بارے میں بتایا گیا کہ مقدمے میں نامزد دونوں چینی باشندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ زیر حراست چینی باشندوں کو بروز پیر علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائےگا۔

چینی نوجوانوں کی پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیوں کا معاملہ

خیال رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے اس طرح کی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ چینی شہری پاکستانی لڑکیوں سے مبینہ طور پر جعلی شادیاں مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں اور پاکستانی لڑکیوں کو سرحد پار لے جاکر زبردستی جسم فروشی کروائی جاتی اور ان کے اعضا فروخت کیے جاتے۔

اس معاملے پر ایف آئی اے کی جانب سے ایکشن لیا گیا تھا اور انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے درجنوں چینی باشندوں کو گرفتار کیا تھا۔

تمام صورتحال پر اسلام آباد میں چینی سفارتخانہ بھی حرکت میں آیا تھا اور انہوں نے 2 الگ الگ بیان جاری کیے تھے، پہلے بیان میں غیر قانونی شادیوں کے حوالے سے رپورٹس کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'چین، پاکستان کی حکومت اور قانونی نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر غیر قانونی شادیوں میں ملوث افراد کو تلاش کررہا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی لڑکیوں کی اسمگلنگ: چینی باشندوں سمیت مزید 14 افراد گرفتار

تاہم 10 مئی کو جاری ایک اور بیان میں چین نے اپنے باشندوں کی جانب سے شادی کے بعد پاکستانی لڑکیوں سے زبردستی جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے سے متعلق خبریں مسترد کردی تھیں۔

پنجاب میں ایف آئی اے نے اب تک 39 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جس میں زیادہ تر چینی باشندے ہیں جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو چین اسمگل کرکے مبینہ طور پر جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے کے لیے جعلی شادیوں سے متعلق کیس میں 6 لڑکیوں کو بھی بازیاب کروایا گیا تھا۔

یہ گرفتاریاں اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں کی گئیں، جہاں ایف آئی اے نے چینی گینگ کے مقامی سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا، یہ گرفتاریاں ہیومن رائٹس واچ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کی حالیہ رپورٹس پر پاکستان کو پریشان ہونا چاہیے۔