چیئرمین نیب کی حکام کو 10 ماہ میں میگا کرپشن کیسز نمٹانے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2019

ای میل

گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ — فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی
گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ — فائل فوٹو: ڈان نیوز ٹی وی

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ادارے کے تمام علاقائی سربراہان کو میگا کرپشن کیسز 10 ماہ کی محدود مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

ایک اعلامیے میں جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تمام نیب ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ ’شکایت کی تصدیق، تحقیق و تفتیش قانون کے مطابق 10 ماہ کی مدت میں مکمل کی جائے تا کہ میگا کرپشن کیسز کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔

نیب کےذرائع نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین نیب نے استغاثہ اور آپریشن ونگز سے علیحدہ علیحدہ بریفنگ لینے اور تفتشیی افسران اور پراسیکیوٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بیورو کے علاقائی دفاتر کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب سمیت متعدد افراد کو 'بلیک میل کرنے والے گروہ' کے خلاف ریفرنس دائر

علاوہ ازیں نیب کے علاقائی دفاتر میں گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے اور بغیر کسی دباؤ کے عدالت میں بیان دینے اور انہیں سماعت میں پیش کرنے کے لیے گواہان سے متعلق ایک سیل قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

پریس ریلیز میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نیب پر اعتماد کرتے ہیں اور شکایات، تحقیقات و تفاتیش کی تعداد گزشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں دگنی ہوچکی ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ قیادت کے دور میں نیب نے بدعنوانی کے 600 ریفرنسز فائل کیے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے، اس کے ساتھ ایک ہزار 210 کرپشن ریفرنسز پہلے ہی احتساب عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

مزید پڑھیں: نیب کے زیر تفتیش 179 میگا کرپشن کیسز میں سے 105 عدالت میں دائر

چیئرمین نیب نے بتایا کہ ادارے نے راولپنڈی بیورو میں جدید سہولیات سے مزین ایک فرانزک لیبارٹری بھی قائم کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ بدعنوانی کے ادارے نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) کا نیا تصور متعارف کروایا ہے تا کہ اعلیٰ افسران کے تجربات اور مجموعی قابلیت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔

اس سے نہ صرف کام کے میعار میں بہتری آئے گی بلکہ یہ بات بھی یقینی ہوگی کہ نیب کے معاملات میں کوئی فرد واحد اثر انداز نہیں ہوسکتا۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں لہٰذا بیورو نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے ہیں تا کہ نوجوانوں میں بدعنوانی کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: ’نیب سے اللہ ہی پوچھے گا، کیا کوئی ادارہ نہیں جو نیب کا آڈٹ کرے؟‘

جس کے تحت کالجوں اور جامعات میں 50 ہزار سے زائد کیریکٹر بلڈنگ سوسائیٹیز تشکیل دی گئیں ہیں۔

چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ ہیڈکوارٹر اور علاقائی دفاتر کی کارکردگی میں بہتری کے لیے گریڈنگ سسٹم ترتیب دیا گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس سسٹم کے تحت ہیڈ کوارٹر اور علاقائی دفاتر کا ثانونی اور سالانہ بنیادوں کا جائزہ لیا جاتا ہے جس کے باعث نیب دفاتر کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔


یہ خبر 22 جولائی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔