حملوں کے دوران عیسائیوں کو پناہ دینے والے امام کیلئے امریکی اعزاز

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2019

ای میل

امام نے اپنی مسجد اور گھر میں 262 عیسائیوں کو پناہ دی تھی — فوٹو: امریکی سفارتخانہ نائیجیریا
امام نے اپنی مسجد اور گھر میں 262 عیسائیوں کو پناہ دی تھی — فوٹو: امریکی سفارتخانہ نائیجیریا

امریکی حکومت نے وسطی نائیجیریا میں حملوں کے دوران 262 عیسائیوں کو اپنے گھر اور مسجد میں پناہ دینے والے 83 سالہ امام کو اعزاز سے نوازا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کی رپورٹ کے مطابق امام ابوبکر عبداللہ سمیت سوڈان، عراق، برازیل اور قبرص کے 4 مذہبی رہنماؤں کو 'بین الاقوامی مذہبی آزادی ایوارڈ 2019' سے نوازا گیا، جو مذہبی آزادی کے علم برداروں کو دیا جاتا ہے۔

ایوارڈ کے منتظمین نے ایک بیان میں کہا کہ ’امام ابوبکر نے مسلم چرواہوں کے حملوں سے بچنے والے سیکڑوں عیسائیوں کو پناہ دی تھی، جنہوں نے 23 جون 2018 کو برکن لادی کے 10 دیہاتوں میں عیسائی کسانوں کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا‘۔

مزید پڑھیں: نائیجیریا: بوکو حرام کے حملے میں 25 فوجی ہلاک

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے سفیر سیم براؤن بیک نے واشنگٹن میں منعقدہ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب حملہ آوروں نے عیسائی پڑوسیوں سے متعلق پوچھا تو انہوں نے انہیں چھوڑنے سے انکار کردیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’امام نے عیسائی پڑوسیوں کو پناہ دی، اپنی مسجد اور گھر میں 262 عیسائیوں کو ٹھہرایا اس کے بعد حملہ آوروں کے سامنے ڈٹ گئے اور ان سے عیسائیوں کی جان بخشنے کی درخواست کی، یہاں تک کہ ان کے بدلے اپنی جان لینے کی پیشکش کی‘۔

سیم براؤن بیک نے کہا کہ ’ان کے اقدام سچی بہادری، بے غرضی اور برادرانہ محبت کے گواہ ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: نائیجیریا:جرائم پیشہ افراد کی کارروائیوں میں 43 افراد جاں بحق

مذکورہ اعزاز کے منتظمین امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ ’مسلمان رہنما نے نہ صرف اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا بلکہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی جان بچائی، جنہیں ان کی مداخلت کے بغیر قتل کیا جاسکتا تھا۔'

خیال رہے کہ مشکوک چرواہوں کی جانب سے حملوں میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جنہوں نے دیہاتوں میں کئی گھروں کو بھی نذر آتش کیا تھا۔

مسلح چرواہوں نے نائجیریا کی وسطی ریاستوں میں کسانوں پر حملے کیے تھے جسے بوکو حرام سے بدترین تنازع قرار دیا جاتا ہے۔