مودی نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے نہیں کہا، بھارت

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2019

ای میل

بھارتی وزیراعظم نے 2017 میں امریکا کا دورہ کیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز
بھارتی وزیراعظم نے 2017 میں امریکا کا دورہ کیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز

بھارت کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے درخواست نہیں کی۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ٹویٹر میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ ‘ہم نے پریس میں صدر ٹرمپ کا بیان دیکھا ہے کہ اگرمسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان درخواست کرتے ہیں تو وہ ثالثی کے لیے تیار ہیں، اس طرح کی کوئی درخواست نریندر مودی نے امریکی صدر سے نہیں کی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ بھارت مستقل موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت صرف دو طرفہ ہوگی’۔

خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان کے ہمرا میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے کہا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش

امریکی صدر نے کہا تھا کہ ‘دو ہفتے قبل میری وزیر اعظم نریندر مودی سےملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کہ کیا آپ مصالحت کار یا ثالث بننا چاہیں گے تو میں نے پوچھا کہاں، جس پر انہوں نے کہا کہ کشمیر کیونکہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں یہ جان کر حیران ہوا کہ یہ مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہے میرا خیال ہے کہ وہ اس کو حل کریں گے اور مجھے ثالث بن کر خوشی ہوگی’۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘میں کشمیر کے حوالے سے بہت کچھ سن چکا ہوں یہ ایک خوب صورت جگہ ہے لیکن وہاں روزانہ بمباری ہوتی ہے’۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا کے طاقت ور ترین ملک کی حیثیت سے برصغیر میں امن لانے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘برصغیر کی آبادی ایک ارب سے زائد ہے اور وہ مسئلہ کشمیر کی بنیاد پر یرغمال ہیں اور میرا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں طاقت ور ترین ریاست دونوں ممالک کو قریب لاسکتی ہے’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی طرف سے کی گئیں کوششوں کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتا ہوں جو مذاکرات شروع کرنے کے اور مذاکرات کے ذریعے اپنے اخلافات کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے لیکن بدقمستی سے ہم تاحال آگے بڑھ نہیں پائے تاہم مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ اس عمل میں مدد کریں گے’۔