کم عمر دوشیزہ کیلئے بادشاہت چھوڑنے والے بادشاہ نے حسینہ کو طلاق دیدی

23 جولائ 2019

ای میل

سلطان محمد نے روسی دوشیزہ سے گزشتہ برس جون میں شادی کی تھی—فوٹو: انسٹاگرام
سلطان محمد نے روسی دوشیزہ سے گزشتہ برس جون میں شادی کی تھی—فوٹو: انسٹاگرام

خود سے 23 برس کم عمر خوبرو روسی دوشیزہ سے شادی کرنے کے لیے گزشتہ برس بادشاہت کو ٹھکرانے والے سابق ملائیشین بادشاہ سلطان محمد پنجم نے اہلیہ کو طلاق دے دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بادشاہ نے خود سے کم عمر اہلیہ کو اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے 2 ماہ بعد طلاق دی۔

50 سالہ سلطان محمد پنجم نے 27 سالہ روسی دوشیزہ اور سابق مس ماسکو اوکسانا ووئی وڈینا سے گزشتہ برس جون میں شادی کی تھی۔

سلطان محمد پنجم نے جس وقت شادی کی تھی وہ اس وقت ملائیشیا کے بادشاہ تھے، تاہم روسی حسینہ سے شادی کرنے کے بعد انہوں نے تخت کو چھوڑ دیا تھا۔

خود سے زائدالعمر مگر امیر ترین شخص سے شادی کرنے کے لیے روسی دوشیزہ نے اسلام قبول کیا تھا اور انہوں نے اپنا نام ریحانہ رکھا تھا۔

شادی کے بعد اگرچہ سلطان محمد پنجم نے بادشاہت چھوڑی دی تھی، تاہم انہیں شاہی قوانین کے تحت ایک ریاست کا بادشاہ مقرر کیا تھا اور انہیں شادی کے بعد عوامی مقامات پر انتہائی کم دیکھا گیا تھا۔

شادی کے لیے روسی دوشیزہ نے اسلام قبول کیا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
شادی کے لیے روسی دوشیزہ نے اسلام قبول کیا تھا—فوٹو: انسٹاگرام

سلطان محمد پنجم اور ان کی اہلیہ کے درمیان اختلافات کی خبریں گزشتہ چند ہفتوں سے ملائیشین اور سنگاپور میڈیا میں جاری تھیںِ، تاہم اس دوران سلطان محمد پنجم کی اہلیہ انسٹاگرام پر اپنے شوہر کے ساتھ رومانوی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتی رہیں۔

تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی۔

ملائیشین اخبار ’دی اسٹریٹ ٹائمز‘ کے مطابق اگرچہ دونوں کے درمیان طلاق خالصتا اسلامی طریقے سے ہوئی تھی، تاہم دونوں نے طلاق کے لیے شرعی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس نے طلاق کی منظوری دے دی۔

رپورٹ کے مطابق سلطان محمد پنجم نے روسی دوشیزہ کو گزشتہ ماہ جون میں سنگاپور میں 2 گواہوں کے سامنے اسلامی طریقہ کار کے تحت تین بار طلاق دی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے طلاق کو قانونی بنانے کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا۔

روسی دوشیزہ سے شادی کے بعد سلطان محمد نے بادشاہت چھوڑی تھی—فوٹو: انسٹاگرام
روسی دوشیزہ سے شادی کے بعد سلطان محمد نے بادشاہت چھوڑی تھی—فوٹو: انسٹاگرام

رپورٹ کے مطابق طلاق کے لیے گزشتہ ماہ 22 جون کو عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی اور عدالت نے دونوں یکم جولائی کو دونوں کی طلاق کا فیصلہ سنا دیا تھا اور اب دونوں میں حتمی طلاق ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بادشاہ تخت سے دستبردار

رپورٹ میں بتایا گیا کہ طلاق کے بعد روسی دوشیزہ ماسکو منتقل ہوگئی ہیں اور انہوں نے انسٹاگرام پر ماسکو سے اپنے بیٹے کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وہ روس میں ہی ہیں۔

روسی دوشیزہ بادشاہ کے ساتھ رومانوی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہتی تھیں—فوٹو: انسٹاگرام
روسی دوشیزہ بادشاہ کے ساتھ رومانوی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہتی تھیں—فوٹو: انسٹاگرام

روسی دوشیزہ نے شیئر کی گئی تصویر میں شوہر کا نام لیے بغیر اپنے بچے کی تعریف کی اور طلاق پر کوئی بات نہیں کی۔

اسٹریٹ ٹائمز کے مطابق روسی دوشیزہ نے ایک ملائیشین ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے اپنے اور سابق بادشاہ کے درمیان طلاق ہونے کو مسترد کیا اور کہا کہ وہ گزشتہ ماہ سنگاپور میں نہیں بلکہ ماسکو میں ہی تھیں اور انہیں طلاق کے دستاویزات بھی موصول نہیں ہوئے۔

روسی دوشیزہ بادشاہ سے 23 سال کم عمر تھیں—فوٹو: انسٹاگرام
روسی دوشیزہ بادشاہ سے 23 سال کم عمر تھیں—فوٹو: انسٹاگرام

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ سلطان محمد پنجم کے وکلاء اور کئی قریبی ذرائع کے مطابق سابق بادشاہ اور روسی دوشیزہ کے درمیان طلاق ہوگئی۔

علاوہ ازیں سنگاپور اور ملائیشین میڈیا میں یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ روسی دوشیزہ کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ سلطان محمد پنجم کا جسمانی بیٹا نہیں ہے، تاہم اس حوالے سے بھی روسی دوشیزہ اور سابق بادشاہ کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔