اسرائیل کا دورہ کرنے والے سعودی بلاگر پر فلسطینی نوجوانوں کے غم و غصے کی ویڈیو وائرل

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2019

ای میل

تل ابیب حکام نے فلسطینی نوجوانوں کے رویے کو ’حیوانی‘ قرار دیا—بشکریہ ٹوئٹر
تل ابیب حکام نے فلسطینی نوجوانوں کے رویے کو ’حیوانی‘ قرار دیا—بشکریہ ٹوئٹر

اسرائیل کی دعوت پر دورہ کرنے والے سعودی عرب کے بلاگر محمد سعود پر فلسطینی نوجوانوں کے شدید غم و غصے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل اسرائیل نے سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک سے 6 صحافیوں اور بلاگرز کو اسرائیل کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کے صحافیوں نے تل ابیب اور غزہ میں مختلف مقامات کا دورہ کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلسطینیوں نے سعودی بلاگر کو برا بھلا کہا اور ان پر پلاسٹک کی کرسی پھینکی۔

اس دوران بعض فلسطینوں نے غصے میں آکر سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بلاگر پر تھوکا۔

دوسری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بلاگر مسجد الاقصٰی کمپیلکس کے دورے پر ہیں جہاں ایک شخص نے کہا کہ ’جاؤ اور یہودیوں کے ساتھ عبادت کرو، یہاں کیا کرنے آئے ہو‘۔

اس حوالے سے تل ابیب حکام نے فلسطینی نوجوانوں کے رویے کو ’حیوانی‘ قرار دیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے سرکاری ریڈیو نے بتایا کہ عرب ریاستوں سے آنے والے 6 مہمانوں میں ایک سعودی عرب کے بلاگر بھی شامل تھے جنہیں فلسطینی نوجوانوں کے شدید غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیلی ریڈیو نے مذکورہ بلاگر کا نام محمد سعود بتایا۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فوج کی فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ، 98 زخمی

علاوہ ازیں اسرائیلی وزیر خارجہ حسن قبیا نے سعودی بلاگر پر ’حملے کو حیوانی رویہ‘ قرار دیا۔

انہوں نے دیگر صحافیوں اور بلاگر کا نام لیے بغیر بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مدعو کیے گئے مہمانوں کا تعلق عراق اور سعودی عرب سے بھی ہے۔

مزیدپڑھیں: اسرائیل کا فلسطین کی ٹیکس کی مدمیں واجب الادا رقم روکنے کا فیصلہ

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ترجمان افری گیڈلین نے کہا کہ وزیراعظم نے نے مہمانوں سے ملاقات کی اور کہا کہ ’ان کی خواہش ہے کہ عرب عوام اسرائیل آئیں تاکہ تعلقات بہتر ہوں‘۔

اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان نے سعودی عرب کے بلاگر محمد سعود کو ’امن کے سماجی کارکن‘ قرار دیا۔